میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار, جنوری 18, 2015

جنسی تعلیم اور پاکستان


دنیا میں کیا جانے والا سروے کہتا ہے کہ
جنسی تعلیم میں پاکستان سب سے پیچھے ہے ۔
لہذا یورپیئن اقوام ۔ پاکسیانیوں کو اس تعلیم میں ان کے برابر آنے کے لئے ، اُن کی خدمت کے لئے ، جنسیاتی مضامین کی مفصل فلمیں بنا رہی ہیں ، اور ان کے مرد و زن ، انسانیت کی خدمت میں مگن ہیں ۔
لیکن نہ معلوم گوگل کیوں اُن کا "ماما" بننا جاہتا ہے ۔
وہ پاکستانیوں کو اس فاصلاتی تعلیم سے دور کرنا چاھتا ہے ۔
نیز تعلیمِ بالغان سے مستفید ہونے والے ، معصوم طالبعلموں پر پولیس نے ظلم توڑنے شروع کر دیئے ہیں ۔
'

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔