میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 19 جنوری، 2015

زندہ قوم

مجھے اچھی طرح یاد ہے ، بلکہ میرے تمام ہم عمر دوست جانتے ہیں - کہ ہمارے بچپن میں ، نہ بجلی تھی اور نہ گیس اور پیٹرول کے لئے  گاڑی تو چھوڑو موٹر سائیکل تک نہ تھی ۔
روزگار بھی اُسی طرح لوگوں کو ملتا تھا جیسا اب ملتا ہے ، لیکن بھوکا پیٹ سونے کا کسی کا نہیں سنا تھا ، یہاں تک کہ گھر پر مانگنے آنے والے بھکاریوں کو خالی ھاتھ لوٹانے کی رسم نہ تھی ۔
شاید اُس وقت ہم سب کے اخراجات بس کپڑوں اور کھانے کی حد تک محفوظ تھے ۔ کھانا تیل کے چولہوں ، برادے کی سگریوں ، لکڑی کے کوئلوں یا لکڑیوں پر پکتا تھا ۔
اِس کے باوجود ہم زندہ قوم تھے ۔
انصاف کی ہمیں ضرورت نہیں تھی کیوں کہ ہم کسی کا حق نہیں مارتے تھے جو اگلے کو انصاف کا دروازہ کھٹکٹانے کی ضرورت ہو نہ ہم نے کسی کا حق مارا کہ کو ئی پولیس والا ہمارا یا محلے میں کسی کا کواڑ کھٹکھٹائے ۔

شاید اُس وقت زند قوم کا مفہوم الگ تھا اور اب الگ ہے ۔ یہ سب اخلاقی قدروں کی تبدیلی کا شاخسانہ ہے ۔



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔