میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 23 جنوری، 2015

ترمذی اب ہم میں نہیں !

بیس جنوری ، یعنی آج سے ٹھیک تین دن پہلے کی بات ہے ۔ دن بھر کی مصروفیت کے بعد میں رات گیارہ بجے سے ڈیڑھ بجے تک بچپن کے دوستوں سے کانفرنس کال پر گپ شپ لگائی ، ہر قسم کا موضوع ، زیرِ بحث آیا ۔ جس میں ھارٹ اٹیک اور کارڈیک اریسٹ کے موضوع بھی تھے ۔ 

کیوں کہ دودن پہلے یعنی 18 جنوری رات دس بج کر پینتالیس منٹ پر،کورس میٹ کرنل احمد خان بلوچ کا وٹس ایپ گروپ پر پیغام آیا ،

"ترمذی اب ہم میں نہیں " ۔ 

إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَ‌اجِعُونَ'

تقریباً 4 بج کر 51 منٹ پر ہمایوں شہزاد بلوچ کا ، پیغام آیا کہ  ترمذی آئی سی یو میں ایڈمٹ ہے ۔ یہ پیغام ملتے ہی کراچی چیپٹر سمیت سب نے ترمذی کا موبائل فون ڈائل کرنا شروع کیا ، مگر وہ بند تھا ، بریگیڈیر مسعود احمد خان (میک) ،  فوراً پی این ایس راحت پہنچے ، ترمذی دواؤں کے زیر اثر تھا ، میک کو دیکھ کر خوش ہوا ۔ میک نے خبر دی کہ ، گیسٹرو پین ہے ۔ لیکن بلڈ پریشر اور ای سی جی بے ترتیب ہیں ، ترمذی نے گذشتہ رات یعنی ہفتے کو فیملی ڈنر میں " لُٹ" مچا دی اور کڑھائی سے پورا انصاف کیا ۔


راشد بشیر مزاری (سیکریٹری ) نے تسلی دی کہ میرے ساتھ ، بھی ایسا ہی ہوتا ہے فکر کی بات نہیں ، اللہ بہتر کرے گا ۔ ہمارے286 کورس میٹس میں سے  176 کورس میٹس ، 60 کے نشان پر پہنچے والے ہیں اور ہم جیسے 110 کورس میٹس اِس حد کو عبور کر چکے ہیں ۔ ترمذی بھی اسی گروپ میں 31 دسمبر 2013 کو شامل ہوا تھا ۔

1974 سے لے کر اُس کی وفات تک ہماری محبت چالیس سالوں تک پھیلی ہوئی ہے ۔  چالیس سالوں کے اِس سفر میں ہمارے 11 کورس میٹس ہم سے بچھڑ کر اللہ کی رحمت میں جا چکے ہیں ۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ، ہم دونوں کوئیٹہ میں تھے اکثر ملاقاتیں رہتیں ، ہنس مکھ ، ملنسار اور محفل کو گرما دینے والا دوست تھا ۔ وہ چلتن مارکیٹ کے پاس سرکاری فلیٹس میں رھتا تھا اور میں ہزارہ روڈ پر ، دونوں کے بچے آرمی پبلک  سکول میں پڑتے تھے ۔  میری بیوی وہاں ، ڈرائینگ کی ٹیچر تھیں - لہذا بچوں اور بیگمات میں بھی واقفیت تھی-
ترمذی ریٹائر منٹ کے بعد اپنے آبائی شہر کراچی میں شفٹ ہو گیا ۔ اور ہم اسلام آباد ،  اُس کے بعد کورس کی سالانہ اجتماع میں ملاقاتیں ہوتی رہیں ۔

ریٹائرڈ کورس میٹس کا سب سے فعال چیپٹر کراچی چیپٹر ہے ۔ جو اپنی 100 ویں اجتماعیت منا چکا ہے، جہاں ہر مہینے اتوار کو وہاں موجود دوست جمع ہو کر ایک دوسرے کو اپنی چاہت کا احساس دلاتے ہیں اور اپنی تصاویر وٹس ایپ پر لگا کر ، پنڈی اسلا آباد چیپٹر کو صرف تالیاں بجانے پر مجبور کرتے ہیں ۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔