میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

منگل، 27 جنوری، 2015

بوڑھے کی ہاؤلنگ

  جن خرّاٹوں سے نزیک سونے والے ہڑبڑا کر اُٹھ جائیں ۔اُنہیں خرّاٹوں کی صف میں کھڑا رکھنا زیادتی ہے ۔ 
پچھلے ویک اینڈ پر نواسی بڑھیا اور بوڑھے کے پاس سونے کے لئے آئی ، پہلے دن اُس کی خواہش ہوتی ہے کہ نانا اور نانی کے درمیان میں وہ سوئے ، کیوں کہ نانا سے کہانی سننا ہوتی ہے ۔ کہانی سنا کر بوڑھا  اپنا سرہانہ اور لحاف اُٹھا کر دوسرے کمرے میں چلا جاتا ہے۔
حسبِ معمول نانا نے کہانی سنائی ، کہانی سنتے سنتے چم چم (نواسی ) سو گئی ۔
بڑھیا اُس سے پہلے سو گئی تھی ۔
بوڑھا  اُٹھتا تو چم چم ڈسٹرب ہوتی ، لہذا بوڑھا بھی  سو گیا ۔
 رات کو بوڑھا چم چم کے دھکّہ دینے  سے اُٹھا ،
" کیا بات ہے ، چم چم ؟ " بوڑھے نے پوچھا ۔

" آوا ! میں نانو کے خرّاٹے برداشت کر سکتی ہوں ۔آپ کے ہاؤلنگ نہیں ، اپنے کمرے میں جائیں" چم چم نے غصے میں کہا
بوڑھا اپنا سرہانہ اور رضائی اُٹھا کر دوسرے کمرے میں چلا گیا ۔
لیٹتے ہوئے بوڑھے  سوچا ، 
" کیا وہ اتنے خوفناک خرّاٹے لیتا ہے کہ   چم چم اُس کے خرّاٹوں کو ھاؤلنگ سے تشبیہ دی  ؟"
تو پھر یقیناً وہ غرّاٹے ہوں گے خرّاٹے نہیں "


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔