میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات, جنوری 29, 2015

بیوی، چیتا اور معصوم ھرن !

میاں بیوی شام کو بیٹھ کر نیشنل جیوگرافک دیکھ رہے تھے ۔ سین تبدیل ہوا ایک چیتا معصوم ہرن کا پیچھا کرتا ہوا دکھائی دیا
بیوی : اُف کتنا خوفناک منظر ہے اللہ کرے ، یہ چیتا اِس ہرن کا شکار نہ کر سکے ۔
ایک موقعہ پر ہرن بس چیتے کی جھپٹ میں تھا کہ بیوی چلائی ۔
بیوی: میرے اللہ میرے اللہ ، معصوم ہرن کو بچا ۔ میرے اللہ ۔ (شوہر کو ھاتھ مار کر بولی) کچھ کرو نا دانت نکالے کیا دیکھ رہے ہو ، کچھ کرو ۔ میرے اللہ ۔ اُف ، میرے اللہ ۔
 شوھر: کیا بچوں والی بات کر رہی ہو ؟ چیتا اگر ہرن نہ کھائے تو زندہ کیسے رہے ؟
بیوی : یہ کچھ اور چیز نہیں کھا سکتا ، مثلا گینڈا یا بھینسا وغیرہ
شوہر: یہ جو تم معصوم مرغیوں ے چکن تکہ اور چکن بوٹی کھاتی ہو !اور یہ ظالم چیتی ہے چیتا نہیں !
بیوی اچھا مجھے کچھ نہیں معلوم ، اگر اِس چیتی نے یہ ہرن شکار  لیا تو ، آئیندہ میری امی ہمیشہ میرے ساتھ رھیں گی ۔ 

تو قارئین ! باقی آپ اِس وڈیو میں دیکھیں ۔


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔