میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 27 جنوری، 2015

مرغانِ قوم ، باکمالانِ وطن

یہ تصویر دیکھتے ہی ماضی بعید تر ، زمانہ حال میں کسی جمناسٹ کی طرح جمپ لگا کر سامنے آگیا -

ہم نرسری یا کے جی پڑھنے والوں میں سے نہیں ہیں ، کچی اور پکی پڑھتے ہوئے ، آگے بڑھتے گئے ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے ، کہ پڑھائی پر مجھے کبھی مار نہین پری اور اگر پڑی تو شرارتوں پر اپنی اور کلاس والوں کی ۔
سزا کچھ زیادہ نہیں ہوتی ، کچی اور پکی میں ، کان پکڑ کر تھپڑ مارا جاتا ۔ مرغا بننے کا شرف پہلی کلاس میں ہوا ، چھٹی کے وقت ، پوری کلاس دو حصوں میں تقسیم ہوجاتی ۔
آدھی کلاس ایک دونی دونی ، دو دونی چار کہتی ۔
دوسری آدھی کلاس تین دونی چھ چار دونی آٹھ کہتی ۔
اُس کے بعد دونوں حصے مرغا بن کر ایک دوسے کو تبدیل کرتے اور لڑکیاں ، خرگوش کی طرح چھلانگیں مارتی اپنی جگہ تبدیل کرتیں ۔ یہ سب ہنسی خوشی ہوتا ۔ کیوں کہ فوجی سکول تھا ، لہذا بچوں کو جسمانی تربیت کے لئے ، یہ سزائیں دی جاتی تھیں ۔ ہمیں بھی باقی بچوں کی طرح مرغا بن کر دوڑنے میں مزا آتا تھا ۔ یا پی ٹی اور پریڈ میں ۔
یہ غالباً 1960 کی بات ہے والد کی ، ایبٹ آباد سے نوشہرہ پوسٹنگ ہوئی اور ہم برکی مڈل سکول اے ایم سی سنٹر ایبٹ آباد سے ، گورنمنٹ پرائمری سکول نمبر-2 نوشہرہ میں آگئے ، جو ہمارے گھر سے ۔ ایک میل دور تھا ۔اور ہم دوسری کلاس میں تھے ۔
سکول کا دوسرا دن تھا ۔ سردیوں کے دن تھے ۔ کلاس روم ہونے کے باوجود باہر پوری کلاس گھاس کے میدان  میں بیٹھی تختی لکھ رہی تھی ۔کہ ساتھ بیٹھے ہوئے ایک لڑکے نے ہماری تختی پر سیاہی بھرے قلم کو جھٹکا دیا ۔  ہم نے جواباً کاروائی کرتے ہوئے اُس کی تختی پر قلم جھٹک دیا ۔ وہ کھڑا ہوا اور دور ھیڈماسٹر کے آفس کے سامنے دھوپ سینکتے ہوئے مارے کلاس ٹیچر ے پاس روتا ہوا دوڑ کر گیا ۔
ماسٹر صاحب نے وہیں سے مانیٹر کو پشتو میں پکارا اور ملزم و پیش کرنے کا حکم دیا ، میں بھی اپنی تختی لے کر گیا ۔ ماسٹر صاحب نے دونوں کے تختی سے ھاتھ لال کئے ۔ اور کلاس کے پیچھے مرغا بننے کا حکم دیا اور بھول گئے ۔ یہ ہمارا مرغا بننے کا پہلا ریکارڈ تھا جو آدھے پیریڈ پر مشتمل تھا ۔ سال کے بعد والد کی دوبارہ پوسٹنگ ایبٹ آباد ہوگئی ۔ لیکن میں ے مرغا بننے میں خصوصی مہارت حاصل کر لی تھی ۔
قارئین ، معلوم نہیں کہ آپ نے ، مرغے بننے کی سزا پورے ہونے پر دونوں ٹانگوں پر سیدھا کھڑے ہوکر چلنے کا لطف اٹھایا ہے کہ نہیں ! بہر حال پانچویں کلاس تک  ہم اِس لطف سے اندوز ہوتے رہے ۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔