میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 23 جنوری، 2015

چند قدم بس چند قدم !

بیس جنوری ، یعنی آج سے ٹھیک تین دن پہلے کی بات ہے ۔ دن بھر کی مصروفیت کے بعد میں رات گیارہ بجے سے ڈیڑھ بجے تک بچپن کے دوستوں سے کانفرنس کال پر گپ شپ لگائی ، ہر قسم کا موضوع ، زیرِ بحث آیا ۔ جس میں ھارٹ اٹیک اور کارڈیک اریسٹ کے موضوع بھی تھے ۔کیوں کہ 18 جنوری کو ھارٹ اٹیک کی وجہ سے ترمذی ہم سے جدا ہو گیا تھا ۔
ھاں تو ذکر ہے بیس جنوری کی رات ڈیڑھ بجے ، ہم دوستوں سے گپ شپ ختم کر کے ۔ جب بستر پر لیٹے تو نیند کوسوں دور تھی ، لہذا موبائل اٹھا لیا اور وٹس ایپ پر دوستوں کے پوسٹ کئے ہوئے دنیابھر سے آئے ہوئے پیغامات پڑھنے لگے ، کئی فلمیں بھی آئیں تھیں ۔ جن میں سے چیدہ چیدہ دوسرے گروپس کو بھجوائیں ۔ دو بجے فارغ ہوئے تو احساس ہوا دائیں ھاتھ میں درد ہے ، پیشانی پر ھاتھ لگایا پسینے سے تر تھی ، نبض چیک کی تو 60 پر دھڑکنے والی نبض 80 پر پہنچی ہوئی تھی ، سوچا دوسرے کمرے میں جاکر بیگم کو اُٹھاؤں ، وہ ہماری مصروفیت سے تنگ ہیں لہذا رات زیادہ ہونے پر میں سٹڈی میں ہی سوتا ہوں ۔ کیوں کہ ہم نے عادت بنا رکھی ہے ۔ کہ جونہی نیند آئی سو گئے ۔ اب کیا بتائیں ، خبریں سننا ، فیس بک پر لوگوں و بھاشن دینا، بلاگرز پر قلم کاریاں کرنا  اور رات کو ، یو فون کے سپر کارڈ سے استفادہ کرتے ہوئے ، کانفرنس کالیں کرنا ۔ اب ایسی بُری عادتوں کی موجودگی میں تو سایہ بھی ساتھ چھوڑ دیتا ہے ۔

تو خیر ،کوریڈور میں لگی میڈیسن کیبنٹ سے دو عدد ڈسپرین نکالیں ۔ چبا کر پانی سے نگل لیں ۔ سوچا بلڈ پریشر چیک کیا جائے ۔ لیکن بی پی اپریٹس بیگم کے بیڈروم میں تھا ۔ دروازہ کھولنے سے اُن کی آنکھ کھل جاتی ، کیوں کہ دروازہ بری طرح چرچراتا تھا اور وہ اُسے چالو کرنے نہیں دیتیں ، بصورت دیگر وہ ہماری رات کو سٹڈی سے دیر سے آنے پر ہماری چوری نہیں پکڑ سکتیں ۔ کاوچ پر سو سو کر ہماری کمر دائیں طرف کو جھکتی جا رہی تھی تو ہم نے سٹڈی میں چارپائی ڈلوادی اور ہم کمرہ بدر ہوگئے ، کمرہ بدر تو ہم بہت پہلے ہو گئے تھے ۔ کیوں کہ ، بڑی بیٹی آئے تو وہ ماں کے ساتھ سوتی ہے ، چم چم ویک اینڈ پر آئے تو نانو کے پاس ، چھوٹی بیٹی ماں کے پاس اور بوڑھا باپ سٹڈی میں ۔  کیوں کہ اُن کا دعویٰ ہے کہ گیسٹ روم ، باہر سے آنے والے گیسٹوں کے لئے ہے ۔

ھاں تو ڈسپرین کھا کر ہم بستر پر لیٹ گئے ۔ الحمد پڑھا ، کلمہ پڑھا اور انا للہ پڑھا اور سو گئے ۔

صبح آنکھ کھلی ، سوچا چند قدم اور مل گئے ۔ ناشتہ کرتے وقت بیگم نے پوچھا،
" رات کو کچن میں گئے تھے "۔
" کیا تم جاگی ہوئیں تھیں ؟" میں نے پوچھا ۔
مجھے نیند نہیں آرہی تھی تو اُٹھ کر نماز پڑھنے لگی ۔ تو مجھے کھٹکا محسوس ہوا ۔ سمجھی کہ آپ ہوں گے " ۔ بیگم نے جواب دیا-
" ہاں رات کو گلاس لینے گیا تھا " میں  جواب دیا
"۔ بھوک لگی تھی کیا؟ " بیگم نے سوال کیا ۔
انہیں معلوم ہے ، ہے  رات کو ہم اکثر ، سویٹ ڈش یا سیب وغیرہ کھاتے ہیں ۔ وہ یہی سمجھیں ۔ لیکن ہم نے انہیں بتایا کہ رات ہو ہمارے دائیں ھاتھ میں درد ہوا ہم سمجھے کہ بس اب قدم ختم ہونے کا وقت آگیا ہے ۔ اور واقعہ بتایا ۔
" آپ اٹھا دیتے - کیوں نہیں اٹھا ؟" غصے میں بولیں ۔
" کیا فائدہ ہوتا ؟ اگر قدم پورے ہونے کا وقت آگیا ہوتا تو خواہ مخواہ رات بھر روتی رہتیں ، اور اگر نہیں ، تو مجھے خواہ خواہ شرمندگی ہوتی ۔ اب ٹھیک ہوں تو سب ٹھیک ہے " میں نے ہنستے ہوئے جواب دیا ۔
 اُس نے بچوں کو بتا دیا ، چھوٹی بہو کا فون آیا وہ ڈاکٹر ہے اُس نے فوراً جا کر ای سی جی کروانے کا کہا تھا ۔
" بیٹی ، گاڑی میں پیٹرول کم ہے ، جو صرف ایمر جنسی کے لئے رکھا ہے ۔ "
میں نے بتایا -
 " انکل ، کیا یہ ایمر جنسی نہیں" بہو نے جواب دیا ۔
" بیٹی ، میرے نزدیک جو ایمر جنسی ، آپ کی آنٹی کو اُن کی طبیعت خراب ہونے کی صورت میں ہسپتال لے کر جانا ہے ۔ رہا میں ، تو خواہ مخواہ ایمرجنسی کا سگنل کیوں دوں ۔ بہر حال ، جونہی موسم ٹھیک ہوا تو میں لازمی جاؤں گا " میں نے جواب دیا ۔

آج بیگم نے زبردستی باہر نکالا ، بتایا کہ اگر گاڑی راستے میں کھڑی ہو گئے تو کیا کریں گے ؟ کیوں کہ اے ایف آئی،  سی سی ایم ایچ سے دور ہے ۔
" میں کچھ نہیں جانتی چلیں " بیگم نے ڈانٹتے ہوئے کہا ۔

ہم نے سوچا ۔ چلو ۔ باہر کی ہوا سے مستقید ہوں ۔ شہر دیکھیں ۔ گھر سے نکلے جی ٹی روڈ پر آئے ۔ پہلا پی ایس او کا پیٹرول پمپ پولیس چیک پوسٹ سے پہلے تھا ۔ اور دور سے خالی نظر آرہا تھا ۔ دل دھڑکا کہ پیٹرول پمپ بند ہے ، نزدیک پہنچے تو پانچ گاڑیاں کھڑی تھیں ہم نے بھی ڈرتے ڈرتے لائن میں لگا دی ۔
باری آئی تو ، پیٹرول مین نے پوچھا ، " کتنے کا ڈالوں ؟ "
ہم نے ڈرتے ڈرتے کہا ، " پانچ سو روپے کا ڈال دو " کیوں کہ ہم نے سنا تھا کہ راشننگ ہو گئی ۔
" بس ؟" ، اُس نے حیرانی سے دیکھتے ہوئے کہا ۔
" چلو تمھاری خوشی ، دو ہزار کا ڈال دو " ہم نے ہمت سے کہا ۔
" جی بہتر ، آپ میٹر دیکھ لیں " اُس نے کہا ۔

ہم گاڑی سے اترے، " کیا آج پیٹرول کی حالت ٹھیک ہوگئی ہے "
" سر یہ تو کل دوپہر ہی سے ٹھیک ہو گئی تھی ۔ بس لوگوں کو " ہوکا " تھا ۔ سر ، ھماری قوم ۔ سب سے جاھل قوم ہے - اِس کا اخلاق دیکھنا ہو ۔ مصیبت میں دیکھیں "

واقعی ، میں نے دل میں سوچا ۔

 اگر انڈیا جنگ چھیڑ دے یا
امریکہ ایران کی طرح پاکستان کے معاشی راستے بند کروادے
تو اِس منتشر اور ابن الوقت قوم کا کیا حال ہو جو ؟
ؔاِس پرچم کے سائے تلے ایک ہونے کا دعویٰ کرتی ہے !



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔