میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 15 جنوری، 2015

اگر تم نہ سلیکٹ ہوئے تو ؟

ڈیڑھ ماہ بعد ہمیں یہ مژدہ پڑھنے کو ملا کہ۔ میڈیکل بورڈ کے سامنے سی ایم ایچ ملیر کینٹ میں پیش ہوں۔ اِس کا مطلب تھا کہ ہم تحریری امتحان میں پاس ہوگئے ہیں۔ بس کیا تھا ہم تیسرے مرحلے کے لئے تیار ہونا شروع ہوئے۔ ارسطو اور افلاطون نے ہمیں ایک کام کی بات بتائی کہ،
 ”کھانسنے کے بعد ڈاکٹر یک دم  امیدوار کا پیٹ پکڑ کر زور سے دباتا ہے اور اُس کے بعد ٹونٹی لگا کر دل کی دھڑکنیں گنتا ہے۔ بس وہاں تیار رہنا  وہ سب سے خوفناک مرحلہ ہوتا ہے“
 ہم میڈیکل کے لئے پہنچے وہاں بھانت بھانت کے لوگ آئے تھے اُن میں سے ایک بالکل عجیب ہیئت نما امیدوار تھا، دبلا پتلا، بڑا سر، لمبے بال، لٹکتی ہوئی مونچھیں، سرخ رنگ کی بیل باٹم  پیلے شوخ رنگوں کی بڑے پھولوں کی نیلے رنگ کی قمیض  جوآفیسر بننے کا امیدوار۔  خیر اُس سمیت ہم بھی میڈیکل میں کامیاب ہوگئےاور آئی ایس ایس بی ،کے آخری مرحلے کی تیاری میں مصروف ہوگئے۔  تیاری کیا تھی بس اپنی انگریزی کو انگلش میں تبدیل کرنا تھا۔ 

 ستمبر  1974 کے آخری دن ہمیں لیٹر ملا کہ 27 اکتوبر سے 31 اکتوبر کے درمیان   ، ہمیں کوہاٹ میں انٹر سروسز سلیکشن بورڈ کر روبرو پیش ہونا ہے ۔ لہذا  ہم 27 اکتوبر 1974 کے دن 1500 بجے سے پہلے پہلے ، ڈپٹی اسسٹنٹ  ایڈجوٹنٹ جنرل کے پاس رپورٹ کریں ۔ اس طرح  ہم عازم کوہاٹ ہوئے۔ ریل سے راولپنڈی اور وہاں سے بس پر کوہاٹ پہنچے۔ بس اڈے سے  آئی ایس ایس بی کی بس میں بیٹھ کر  میس پہنچ گئے۔ جہاں ہمیں بریفنگ اور چیسٹ  نمبر دئیے گئے۔ فارم بھروائے گئے اور اگلے دن ہمیں ٹیسٹوں کے رولر میں سے گذارا جانے لگا اور یوں چوتھا دن آگیا جس دن ہمیں نامہ اعمال ملنا تھا۔ہم سب ایک دوسرے سے اپنی پرفارمنس کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔ ہر کوئی اپنی پرفارمنس کے بارے میں پر امید تھا۔
سوائے ہمارے  وہ یوں کہ جب ڈپٹی نے اپنے انٹرویو میں پوچھا،”اخبار پڑھتے ہو؟“
 ہم نے جواب دیا،”نہیں“ ۔ 
”کیوں؟“ اُنہوں نے پوچھا۔
”سر میں  بی اے فائینل ائر کے امتحان دے رہا ہوں، وقت نہیں ملتا“  ہم نے جواب دیا۔
”آج اینٹی روم میں اخبار تو دیکھا ہوگا؟“ سوال ہوا۔
”جی سر!“  ہم نے جواب دیا۔
”اُس میں سے کیا پڑھا؟“ انہوں نے پھر پوچھا۔
 ”سر جو صفحہ میرے ہاتھ آیا اُس میں سے صرف ٹارزن کی کہانی پڑی“  میں نے جواب دیا۔
 ”ہوں ں ں ں، کیا تھا اُس میں؟“  انہوں نے پوچھا۔
 میں وہ قسط سنا دی جو اخبار میں تھی۔
”تمھیں ٹارزن کی کیا بات پسند ہے؟“ پھر سوال ہوا  ۔ 
”سر، ٹارزن مضبوط کردار کا ایک ہمدرد انسان ہے جو مصیبت میں گھرے لوگوں کی مدد کرتا ہے“۔ہم نے جواب دیا ۔ 
اُنہوں نے میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے مسکرا کر پوچھا،”اور اُس کی بیوی جین تمھیں کیسی لگتی ہے؟“۔
 ”سرو ہ بھی ٹارزن کی طرح ایک بہادر اور ہمدرد عورت ہے“ ہم نے جواب دیا ۔ 
”اچھا اگر تم نہ سلیکٹ ہوئے تو آئیندہ کیا کروگے؟“  انہوں نے پوچھا۔
 ”سر میں اکنامکس میں ماسٹر کرنے کے بعد ایجوکیشن کور کے لئے ایپلائی کروں گا“ میں نے جواب دیا
”گڈ ٹھیک ہے۔ ایجو کیشن آفیسر، تم جاسکتے ہو، وش یو گڈ لک“  انہوں نے مستقبل بعید کی امید دلائی ۔
ہمارا بھی پکا غلیل بنانے کا ارادہ تھا  ،خوا ہ سائیکل کی ٹیوب سے بنے یا  ۔ ۔ ۔ ۔  !
میں اُن کے آفس سے کشتیاں جلا کر باہر نکل آیا۔ تھوڑی دیر بعد ایک سٹاف آیا اور بولا،
”جن صاحب کے میں نام پکاروں وہ سب پریزیڈنٹ صاحب کے انٹرویو کے لئے رک جائیں گے اور باقی تمام صاحب کھانا کھا کر اپنی کلیرینس کروا کر گھر جائیں۔ لیٹر اُن کے گھر آجائیں گے"۔

 کوئی پندرہ امیدواروں کے نام پکارے گئے۔ اُن میں سے ایک ہمارا بھی تھا۔  وقار، ذوالفقار، فاروق،طغرل،   وغیرہ کے نام یاد   ہیں ۔ کیوں کہ ہم سب ساتھ پی ایم اے  گئے تھے۔ ہم سب کو سلیکشن کا مژدہ سنایا گیا اور کچھ فارم بھروائے گئے اورعصر کے بعد ہم نے  آئی ایس ایس بی سے واپسی کے لئے رختِ سفر باندھا۔
٭٭٭٭٭رنگروٹ سے آفسر تک ٭٭٭٭٭٭ 
اکیڈمیات

 رنگروٹ سے آفسر تک ٭٭٭      عوامی میلہ یا میل

 اگر تم نہ سلیکٹ ہوئے تو ؟٭٭٭ شخصی آزادی کا آخری دن

اکیڈمی کا پہلا سہانا اتوار٭٭٭  گورکھے اکیڈمی میں ۔

یادوں کے جھروکوں سے ٭٭٭  سٹوڈیو ، پیرا ٹروپنگ اور ہم - 1

سٹوڈیو ، پیرا ٹروپنگ اور ہم - 2 ٭٭٭ ہزاروں خواہشیں ایسی - کیڈٹ

 فوجیات

  نیم لفٹین عازمِ جنتِ روئے زمیں٭٭٭ نیم لفٹین کو کپتان کا سلام

نیم لفٹین پر بھاری ذمہ داری  ٭٭٭ نیم لفٹین کا چھٹی جانا اور منگنی

سیکنڈ لفٹین پیچھے پِھر٭٭٭   سیکنڈ لفٹین اور شاہ ولی ایکسپریس

ہم سکول گئے  ٭٭٭  آبزرویشن پوسٹ اور آبزرور

گن پوزیشن آفیسر کا امتحان٭٭٭ سیکنڈ لفٹین کا توپ چلانے میں ماہر ہونا

ویلکم سیکنڈ لفٹیننٹ -1 ٭٭٭ ویلکم سیکنڈ لفٹیننٹ - 2

ویلکم سیکنڈ لفٹیننٹ - 3٭٭٭ فوجی گاڑی کی ڈرائیوری اور ہم - 1

فوجی گاڑی کی ڈرائیوری اور ہم - 2٭٭٭  فوجی گاڑی کی ڈرائیوری اور ہم - 2

جاری ہے ۔

 

 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔