میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 19 فروری، 2015

سجدہ-1

أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يَا بَنِي آدَمَ أَن لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطَانَ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ ﴿يس: 60

اے بنی آدم ! کیا عہد نہیں لیا گیا تمھاری طرف ، یہ کہ تم الشیطان کی عبادت نہ کرنا بے شک وہ تمھارا مبیّن عدو ہے ۔

"بچہ دینِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے اور ماں باپ ، اُس کا مذھب تبدیل کردیتے ہیں" - 
میں یہ الفاظ اپنے لڑکپن سے سن رہا ہوں ۔ کبھی سمجھ آتے اور کبھی میں خود پریشان ہوجاتا ، جب میں اپنے ہندو اور عیسائی دوستوں کے بچوں کو دیکھتا ۔ جب سال دوسال کے بچے وہ مذھبی عمل دھراتے جو اُن کے دادا دادی یا نانا نانی اور یا والدین کرتے ۔ میرے بچوں نے بھی وہی مشہور عمل کیا ، جن گھرانوں میں گھروں میں ، دادی ، نانی اور ماں (اب شائد) بھی کرتیں ۔ یعنی زمین، جاء نماز یا قالین پر کرتیں ۔ سیا چین میں جب میں سو فیصد عملی مسلمان ہوا ، الکتاب اور کتاب اللہ سے اپنا رشتہ جوڑا ۔ تو الکتاب اور کتاب اللہ کے درمیان مجھے ایسے ایسے مضبوط رشتے ملے کہ میری روح تک سرشار ہو گئی ۔
میں آپ کو پریشان کرنا نہیں چاہتا ۔ لیکن میں پہلے آپ کو کتاب اللہ اور الکتاب کا اپنا مفہوم سمجھا دوں ۔
  کتاب اللہ :
اللہ کے علاوہ کائینات میں پھیلی ہوئی ۔ اللہ کی وحی " کتاب اللہ " کا حصہ ، "کن" جو اللہ کا کلام ہے ۔ "کن" جو اللہ کی آیات کی ابتداء کو "یکن" کی انتہا تک پہنچاتا ہے ۔
"اللہ کی آیات " جو انسان کے چاروں طرف بکھری ہوئی ہے ، جو حاضر بھی ہے اور ہماری نظروں سے غائب بھی ۔ سب خالق کائینات کے "کن" سے اس کے "امر" کی ابتداء اور پھر آیات کا سلسلہ اتنا طویل ہے ۔ کہ اللہ کے "کلمات" کا شمار نہیں ۔ ناممکنات میں سے ہے ۔

تو پھر فانی انسان ، نا ممکن کو ممکن کیسے بنا سکتا ہے ؟

ہمارے جسم کا ایک ایک خلیہ اللہ کے "کن" کا مرھون منت ہے ، انسانی جسم ، ایک مکمل کتاب ہے ، اسی طرح کائینات کی ہر شئے ایک قیم کتاب ہے ۔ :کتاب اللہ " کا حصہ ہے ۔ انسانی حواس خمسہ اسے محسوس کرتے ہیں ۔ ان کی تصدیق کرتے ہیں اور اپنے علم میں اضافہ کرتے ہیں ۔ جس سے انسان کو بصیرت آتی ہے اور وہ " کتاب اللہ " کی مدد سے اپنے لئے نئی راہیں دریافت کرتا ہے ۔

غور کریں کتنی" قیم کتب " ہمارے ارد گرد موجود ہیں ۔ یہ سب وحی (کلام اللہ ) کی کرشمہ سازیاں ہیں ، ان سب کے لئے فلاحی ریاست قائم ہے ۔ جس میں یہ رہ رہے ہیں ۔ اور فلاح پارہے ہیں ۔ ہر جاندار اپنی ذات میں ایک مکمل ، حیات ہے اپنے کام سے آگاہ ہے ۔ اور "کتاب اللہ" سے راہنمائی حاصل کر رہا ہے ۔ اور اپنی فلاحی ریاست کو خوب سے خوب تر بنا رہا ہے ۔ جو رزق مل جائے ، کھا لیتا ہے ، پیٹ بھر جائے تو بچا ہوا چھوڑ کر آگے بڑھ جاتا ہے ۔ اپنی فلاحی ریاست کی چہار دیواری جو اس نے بنائی ہے ۔ اس کی حفاظت کرتا ہے ، ہمت نہیں پاتا تو ھجرت کر جاتا ہے ۔ کیوں کہ اس کے لئے اللہ کی زمین بہت وسیع ہے ۔

ہمارے پیروں تلے کچلی جانے والی جیونٹی یا تالی کی زد میں مسلا جانے والا مچھر ، اللہ کی فلاحی ریاست کے مقیم ہیں
۔
" وحی کے بغیر آپ انسان کے لئے ایک فلاحی ریاست قائم نہیں کرسکتے ، البتہ حیوانی فلاحی ریاست آپ بنا سکتے ہیں "

الکتاب :
"الحمد" سے لے کر "والناس" تک وحی کا خزانہ ، " کتاب اللہ " کی تصدیق ۔ کائینات کے خالق کی پہچان ، اس کے احکامات ، اس کے ممنوعات ، اور ، خود انسان کی اپنی ذات کے لئے "الکتاب " تکمیل کا ایک خزانہ ہے ۔ جس پر عمل کر کے وہ ، حیوانی حیات سے بلند ہوتا جاتا ہے ۔


لازمی نہیں کہ آپ میرے مفہوم سے متفق ہوں ۔ لیکن یہ مضمون آپ کو سجھنے میں آسانی ہوگی ۔ جس کا آغاز ، آج میرے پوتے ، کی ایک حرکت پر ہوا-


میں اور بیوی ، کم و بیش روزانہ اپنی بہو اور پوتے سے سکائیپ پر بات کرتے ہیں اور میں "یہودی و عیسائیوں" کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ جواُن کے ربّ کی راہنمائی سے ہمیں پتھر کے دور سے جدید دور میں لے آئے ۔ ھاں تو بات ہورہی تھی سکائپ پر پاکستان سے دوبئی میں بات چیت کی ۔
ہمارا پوتا ، اپنی من موہن شرارتوں سے ہمارا دل خوش کر رہا تھا اور ہم تینوں اُس کی معصوم حرکتیں دیکھ کر لطف اندوز ہو رہے تھے ، میں " اللہ ہی اللہ کیا کرو ۔ دکھ نہ کسی کو دیا کرو" پڑھ رہا تھا اور وہ پنڈولم کی طرح ہماری طرف بیٹھا ہوا جھوم رہا تھا ۔ لیکن اُس سے پہلے وہ اپنے دائیں طرف پڑے ہوئے ۔ پلاسٹک کے برتن میں اپنی ماما ے قبضہ کئے ہوئے چمچے سے کھانا بنا رہا تھا ۔ اُس سے پہلے دائیں طرف پڑے ہوئے کھلونے کے بٹن دبا کر مختلف انگریزی بچوں کی نظموں کا میوزک سن رھا تھا ۔
بیوی ، بہو سے کھانا پکانے کی ترکیبوں کی بات کر رہی تھی ۔ غرض میرا اور پوتے کا ، بیوی اور بہو کے چینل چل رہے تھے ۔ اچانک مجھے خیال آیا اور میں نے ،" اللہ اکبر ، اللہ اکبر ، اللہ اکبر ، اللہ اکبر " آذان کی طرح پڑھا ۔
پوتے نے کھانا بنانا چھوڑا اور سجدے میں چلا گیا ۔


مجھے اور بیوی کو بے حد پیار آیا ۔ ہم نے ہوائی بوسوں کی بوچھاڑ کر دی ۔ بیوی نے بہو سے پوچھا ،
" انعم : کیا آپ نے اِسے سجدہ کرنا سکھایا ہے ؟"
" آنٹی: میں نماز پڑھتی ہوں ۔ تو یہ بھی میری کاپی کرتا ہے " ۔
  ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭   جاری ہے




خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔