میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 8 فروری، 2015

زندگی کا فن-ہستی، جاودانی حیات کا میدان -4

 ہستی، جاودانی حیات کا میدان

 حاضر و ناظر، تخلیق کا اہم جزو، ہر شے کی جڑ میں موجود ہستی، تمام موجودات نسبتی، تمام اقسام اور مظاہر سے بالا تر، کیوں کہ اس کی خالص اور مکمل حیثیت ماورائی ہے۔ یہ وقت کی حقیقت، جگہ اور تسبیب، ہر وقت تبدیل ہونے والی حدیں، تخلیق کے میدانِ مظاہرسے بالا تراس کا ٹھکانہ ہے۔ہستی، مطلق خالص ہے اوراپنی اس حیثیت سے محظوظ ہوتی ہے، یہ اپنی ناقابل تبدیل جاودانی حیثیت سے بھی محظوظ ہوتی ہے۔ حتمی ہستی اور اس کی کائیناتی نسبت کو ہم اس مثال سے سمجھ سکتے ہیں کہ ہستی ایک لاانتہا پرسکون سمندر ہے، جو ہمیشہ ایک جیسا ہے۔ تخلیق کے مختلف رخ، اقسام اور مظاہراور دنیا میں ہر وقت تبدیل ہونے والی حیات، اس بڑے سمندر کی لہریں اور موجیں ہیں۔ ہستی کا جاودانی سمندر، اِس فرق کے ساتھ اِس طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ اس کی خالص حیثیت تمام وجودِ نسبتی (Relative Existence) سے بالا تر ہے، یہ خالص وجود یا خالص شعور کی بے انتہا وسعت ہے، حیات کے ضروری جزو اور حصے ہیں۔ یہ لامحدود، غیر محیط، جاودانی، خالص ذہانت، خالص وجود اور حتمی میدان ہے خلاصہ یہ کہ ہستی، جاودانی حیات کا میدان ہے اور یہ بتانا اہم ہے کہ ہستی جاودانی حیات کا میدان، حیات کے روزمرہ مظاہر کے ادوار، حیات جاودانی کی لاانتہا قوت سے مدد پاتے ہیں


  زندگی ہماری روزمرہ زندگی کا مجموعہ ہے، ہستی جو تخلیق کا اہم جزو اور تمام عوامل کی بنیاد ہے اور مطلق میدان میں پائی جاتی ہے۔ ہستی تمام انفرادی عوامل کی بنیاد، قائم کرتی ہے اور اس کی اپنے اندر کی تحریک،روزمرہ زندگی کے تمام پیچیدہ اور مختلف النوع میدان میں برقرار رہتی ہے۔
ہماری زندگی سانس لینے اورسوچنے سے شروع ہوتی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ کیسے لاوجود اورماورائی ہستی سب سے پہلے روح (پرنا) اورذہن میں ظاہر ہوتی ہے۔ تحریک کا انحصار سوچ پر ہے، کسی بھی کام کرنے سے پہلے ہم سوچتے ہیں۔ ہماری سوچ کا انحصار کس پر ہے ہیں اس کا خیال نہیں رکھتے، سوچ عمل کی بنیاد ہے اور سوچ کی بنیاد کیا ہے؟ سوچنے کے لئے ہمیں کم از کم ہونا چاہئیے۔ ہستی سوچ کی اساس ہے، اور سوچ عمل کی اساس ہے، ہستی تمام حیات کی اساس ہے۔ جیسے عرق حیات (Sap) کے بغیر کوئی جڑ نہ ہو اورنہ کوئی درخت اسی طرح ہستی کے بغیر کوئی سوچ نہ ہو اور نہ عمل، ہستی کے بغیر سوچ، عمل یا حیات ممکن نہیں۔ اگر ہم عرق حیات (Sap) کی دیکھ بھال کریں تو پورا درخت پھلے پھولے گا۔ اسی طرح اگر ہم ہستی کی حفاظت کریں تو سوچ اور عمل کا مکمل میدان پروان چڑھے گا اور مکمل میدان ِحیات ہستی کے شعوری دیکھ بھال سے جگمگائے گا۔
لہذا ہم ہستی کو تمام عوامل، برتاؤ اور مختلف طریقوں اور حیات کی اقسام کی بنیاد دیکھتے ہیں۔ ہستی،تمام حیات کی بہت شاندار، بہت قیمتی اور قابل ستائش بنیاد ہے۔ ہستی، آفاقی قوانین کی سطح ہے، تمام قوانین فطرت ہی اساس جو ہر تخلیق اور ارتقاء کی جڑ میں رہتی ہے ۔
یہ ممکن ہے کہ حیات کے تمام میدانوں کو اور زندگی کو شتائشی کرنے کے لئے،ہستی کی فطرت کو شعوری طور پر پھونکتے ہوئے عمل اور برتاؤ کے مختلف میدانوں میں جلاء بخشی جائے -

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔