میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 22 فروری، 2015

مراقبہ اور انسانی جسم -4


انسانی جسم کیا ہے -گوشت پوست اور ہڈیوں کا مجموعہ۔ جو قدرت کے اِس کارخانے میں اپنے افعال(تقدیر) اور اعمال (تدابیر)پر سرگرداں ہے۔ انسانی افعال اور حیوانی افعال میں کوئی فرق نہیں۔ بس فرق اعمال(تدابیر) کا ہے جو اسے حیوانات سے متمیّز کرتی ہے۔ تمام بیرونی افعال اور اعمال اُس کے حواسِ خمسہ کے ذریعے قلب  میں داخل ہوتی ہیں جو دماغ کامرکزی حصہ ہے، جس میں ذہن جنم لیتا ہے۔ ذہن میں یہ ادراک کی چھلنی کے مختلف سانچوں سے گذرتی ہے اور اعمال کی صورت میں باہر کی دنیا والے اسے  دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں۔خوبصورتی گوشت پوست اور ہڈیوں کے مجوعے میں اُس کے تناسب کے لحاظ سے یقیناً ہوتی ہے لیکن جو خوبصورتی اُسے مقبول بناتی ہے وہ اعمال کی خوبصورتی ہے اور اعمال کی بدصورتی اُسے غیر مقبول بناتی ہے۔
حواسِ خمسہ میں سب سے اہم  سمع (سننا) اور بصر (دیکھنا) ہے۔ جو ہمیں  بیرونی دنیا کی کثیر معلومات فراہم کرتی ہیں۔باقی چکھنا، چھونا اور سونگھنا  اِن کا تعلق قریب سے ہے۔ یہ پانچوں حواس دماغ (ہارڈوئر) میں ذہن (سافٹ وئر) بناتے ہیں۔ اِس سافٹ وئر  انسانی دماغ میں کب سے بننے لگتا ہے  اور کب رُکتا ہے ۔  اِس پر بعد میں آئیں  گے۔ لیکن پہلے خود کو سمجھیں۔ کہ انسانی جسم کیا ہے؟  اِس کی تمام حرکات و سکنات کہاں سے کنٹرول ہوتی ہیں۔  دماغ انسانی جسم کا سربراہ ہے۔جس کا انسانی جسم پر مکمل کنٹرول ہوتا ہے۔  دماغ کے تقدیری(خودکار)  افعال ہوتے ہیں جو مکمل حسیاتی نظام کو فعال رکھتے ہیں اور اِس میں حواسِ خمسہ کے ذریعے بننے والے  ذہن کے تدبیری (خود ساختہ) اعمال ہوتے ہیں جو انسان کو فعال رکھتے ہیں۔



کیا ہمیں معلوم ہے کہ ہمارے کل دماغ کا 85 فیصد حصہ۔ سیرے برَم  Cerebrumکہلاتا ہے۔ اِس میں سوچنے، تدّبر کرنے، دوڑنے بھاگنے، ایکسرسائزکرنے مختلف جسمانی کھیل، حرکات، تصویر بنانے حساب کے سوال کرنے،  مہد سے لحد تک کی یاداشت  رکھنے، کسی راستے سے گذرتے ہوئی دیکھی اور سنی جانے والی، تمام آوازوں اور نظاروں، انسانی شکلوں کا ریکارڈ رکھنے ، خوشبوں کی پہچان،  غرضیکہ دماغ میں حواسِ خمسہ سے داخل ہونے والی تمام معلومات، کو  تھوڑے عرصے کے خانے میں رکھنا اور لمبے عرصے کے خانے میں دھکیل دینا، یہ سب اِس کی خصوصیات ہیں۔
دماغ (سیرے برَم  Cerebrum) دو واضح حصوں میں تقسیم ہے   دایاں حصہ اور بایاں حصہ۔ دایاں حصہ بائیں جسم کو کنٹرول کرتا ہے اور بایاں حصہ دائیں جسم کو۔ اگر کسی شخص کا بایاں ہاتھ کام کرنے میں دشواری محسوس کر رہا ہو تو یہ دائیں حصے کی شرارت ہے۔
دائیں حصے کا مکمل تعلق فنونِ لطیفہ سے ہے جیسے آرٹ، میوزک  اور اشکال اور بائیں حصے کا  فنونِ کثیفہ سے کہہ سکتے ہیں کیوں کہ بچوں کو سب سے زیادہ  مشکل اور خشک، حساب، دلیل سے بات کرنا ،چیزوں کو جانچنا، اُن پر غور و خوض کرنا لگتاہے۔  دائیں حصے اور بائیں حصے کا آپس میں  رابطہ ہوتا ہے، لیکن ان کے کم استعمال سے یہ رابطے کمزور پڑتے جاتے ہیں  اور وہ تجریدی  بھنور کا شکار ہو کر مقصدیت سے ہٹ جاتا ہے۔ یوں سمجھئے ایک اچھا تعلیی نظام، دونوں دماغوں کی ہر خوبی کا ستعمال کرواتا ہے۔ جن کی وجہ سے یاداشت کے خانے بڑھنے لگتے ہیں۔ دائیں اور بائیں دماغ میں رابطوں کی تاروں کا اضافہ ہوتا جاتا ہے۔
ایک بڑے شہر کے ٹیکسی ڈرائیور کے دماغ کی یاداشت کا وہ خانہ جو شہر کے نقشے کومحفوظ کرتا ہے  اُس شخص خانے سے کہیں بڑا اور مربوط ہو گا جو بس میں سفر کر کے گھر سے آفس جاتا ہے اور واپس آتا ہے۔ بڑے سے کہیں آپ یہ نہ سمجھیں کہ وہ پھولنا شروع ہو جائے گا۔ بلکہ دماغ کے وہ تمام خلیئے  جو دائیں اور بائیں دماغ میں کہیں بھی ہوں گے وہ آپس میں جڑنا شروع ہوجاتے ہیں، جیسے ہارڈ ڈسک کے سیکٹرز میں معلومات ریکارڈ ہوتی ہیں اور لنکڈ  Linkedہوتی ہیں بالکل اسی طرح یہ خلیئے آپس میں رابطے میں ہوتے ہیں۔

دماغ میں سیرے بلم Cerebellum بھی ہوتا ہے، جو دماغ کا  آٹھواں حصہ ہے، آپ کی ڈانسنگ اور بیلنسنگ حرکات کوکنٹرول کرتا ہے۔ نشہ اِس حصے کو  مفلوج کرتا ہے  اور یاداشت کو بھی۔ 
پیچوٹری گلینڈ  Pituitary Glands مٹر کے دانے کی جسامت کا غدود ہے۔ لیکن بہت اہم ہے۔  جسم میں شکر اور اور پانی کی مقدار کو کنٹرول کرتا ہے۔  ہاضمے کے نظام کو فعال رکھتا ہے، سانس اور خون کی حرکت کو ناسب رکھتا ہے اور جسم کو توانائی فراہم کرتا ہے۔ یہ سب وہ جسم میں ھارمون چھوڑتے ہوئے کرتا ہے۔ گویا جسم کی تند رستی کا پورا نظام  یہ سنبھالے ہوئے ہے، یہ بچپن سے بلوغت، جوانی ادھیڑ عمری اور بڑھاپے میں لے جاتا ہے۔


ہائپو تھیلا مَس Hypothalamus، یہ جسم  کے درجہ حرارت کوکنٹرول کرنے کا تھرمو سٹیٹ ہے جو درجہ حرارت کو  98.6ڈگری فارن ہائیٹ یا 37ڈگری سنٹی گریڈ  پر رکھتا ہے۔درجہ حرارت بڑھ گیا تو یہ جسم پر پسینے کی صورت میں چھڑکاؤ  اور اگر کم ہو گیا، تو کپکپی سے جسم کو گرمانے کی پوری کوشش کرے گا۔

حرام مغز  Brain Stem   دماغ کو پورے جسم کو  فائبر آپٹکس سے بھی اعلیٰ کنکشنز حسیات سے جوڑتا ہے۔حواسِ خمسہ کے ذریعے پیغامات دماغ میں میں دماغ  کے ذریعے جسم کے مطلوبہ حصے میں برقی رفتار سے کہیں زیادہ تیز دوڑتے ہیں۔ تقدیری افعال کے پیغامات کو دماغ سے جسم میں بلارو ٹوک پہنچاتا ہے خواہ آپ نیند کے مزے لے رہے ہوں یا مکمل بے ہوشی میں ہوں۔
حواس خمسہ کے ذریعے دماغ میں جانے والے  اور دماغ میں ہلچل مچا کر جسم کو واپس حسیات کے ذریعے بھیجے جانے والے تمام پیغامات بیرونِ جسم نشر بھی ہوتے ہیں۔کیوں کہ انسانی جسم ایک مکمل بصری  بلکہ ٹیلی ٹرانسمیٹربھی ہے، جودماغ میں پیدا ہونے والے خیالات کی لہروں کو نشر کرتا ہے  جسم میں فاصلے کی قید نہیں، اسے ٹیلی پیتھی کہتے ہیں۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔