میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 3 فروری، 2015

تو ، تم اور آپ

عرصہ ہوا کہتے ہیں کہ ھلاکوخان  انپے گھوڑے  کی ننگی پیٹھ پر بیٹھ کر تلوار اپنے دائیں بائیں گھماتا  ،  قتل و غارت کا طوفانِ بدتمیزی برپا کرتا  ۔ مختلف پہاڑی علاقوں سے گزرتا بغداد پہنچا  تو بڑھاپے اور کثرتِ ازواج کے باعث اِس کی ہمت جواب دے گئی ۔ منگولوں کی انسانوں سروں کا مینار بنانے والی " ریلے ریس" کی کمانڈ  ھلاکو جونئیرز کے ہاتھوں میں آگئی    ، یہ کمانڈ یکے بعد دیگرے آگے بڑھتی گئی یہاں تک کہ یہ منگولوں کی خوبصورت ترک النسل  ، زبردستی تصرف میں لائی گئی   خواتین کی اولادوں کو  ،" منغول "کہلانا شروع  کیا جو   مختصر ہو کر مغل میں تبدیل ہو گیا ۔ تو  مزید فتوحات کے لئے ، یورپ سے تحفے میں لی ہوئی  نیلی آنکھوں والے مغل سپاہیوں نے ، برصغیر کا رخ   ظہیر الدین بابر  کے ساتھ   کیا اور جہاں جہاں گذرے ، نیلی آنکھوں کا تحفہ بخشتے ہوئے  ۔ غزنی و کابل سے ہوتے ہوئے ، خیبر کے راستے   پنجاب میں وارد ہوئے  اور مشرقی بنگال تک جا پہنچے ۔ سرداروں کے ساتھ سر دینے والوں کی فوج ظفر موج سو ، دوسو ، چار سو اور آٹھ سو کلومیٹر کی اِس ریس میں شامل ہوجاتی – یوں گرینڈ ٹرنک روڈ کے دائیں بائیں  مارشل ریس وجود میں آنے لگیں ۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ  اِس ریس میں سب سے زیادہ ذوق و شوق کا اظہار  دریائے سندھ کے مغربی کنارے سے لے کر ترکستان کے مرغزاروں  میں بسنے والوں نے کیا ۔ اور سنتِ فاتحین  پر برضا و رغبت  عمل کرتے ہوئے مفتوح والدین کے کندھوں کا بوجھ ھلکا کیا ۔ گر اُن کو سب سے مشکل مرحلہ جو پیش آیا وہ حرف مدعا بیان کرنے کا تھا ، کہتے ہیں محبت کی زبان نہیں ہوتی ، چنانچہ اشاروں کنایوںکی بین الاقوامی زبان کو  حرم میں زبان ملی ۔ لیکن  صرف محبت پیٹ نہیں بھرتی  ، چنانچہ تیری زُبان ، میری زَبان ، میری زَبان اور تیری زُبان  کی بدولت زُبانوں کے ملاپ سے بننے والی زَبان حرموں سےنکل کر   لشکریوں کے طفیل  ، برصغیر کے بازاروں سے ہوتی ہوئی شعراء کی محفل بزم و ادب میں جا پہنچی ۔ مختصر یہ کہ ، پہلے تو یہ شدید قسم کی بے ادبی کا شکار ہوئی کیوں کہ  ، ھندوستان میں بولی جانے والی ھندی  نے اِسے" ھندکو " تو نہیں  البتہ ترکی اَردو    ، یعنی ترکی لشکر کی زَبان بنادیا ، لیکن امیر خسرو  نے  اپنی گائیکی کی وجہ سے  اسے گنگنانے والوں میں مشہور کر دیا ۔ 
ھندی ، فارسی اور عربی کے ملاپ نے اِسے ، اَردو سے اُردو کر دیا ۔  یوں  اِس کی مقبولیت کا یہ عالم  ہوا کہ اِس نے شہنشاہوں اور امراءِ  ماوروالنہر  کی زبان کو تزکِ بابری تک محدود کر دیا  اور روساء کی زَبانِ فارسی کو پچھاڑ کر اُسے داخل دفتر  کر دیا  ۔ لشکریوں کی یہ زبان ، ڈھاکہ ہوٹل میں پاکستان کی قومی زبان بن گئی یہ اور بات  کہ چھاگلے کی دھن پر حفیظ جالندھری کے لکھے ہوئے قومی ترانے میں اِس کا صرف ایک لفظ ہے اور وہ صرف " کا"  ہے ۔ اوراب تک ہماری قومی زَبان کا یہ فقط یہ  لفظ ہی قومی رہا ، انگریزی نے اِس کے خلاف پوری قوت سے زور لگا کر  اِسے قومی زَبان نہیں بننے دیا ۔
یہاں تک کہ  1969 میں ہمارے اُن تمام ہم عصروں  کو میٹرک کے امتحان میں مرزا رجب علی بیگ سرور  کا مضمون  " جان عالم کا پیدا ہونا اور ماہ طلعت سے شادی "  کے کسی پیرائے کی جب سلیس اردو بنانا پڑتی ، تو جان عالم کو بلا نقط سنائی جاتیں ، کہ نہ موصوف پیدا ہوتے ، نہ ماہ طلعت سے شادی ہوتی اور نہ ہمیں ، قطار مین مرغا ب کر ایک دوسرے کے پیچھے چلنا پڑتا ۔
لیکن اِس کے باوجود اُردو زَبان کے سمندر میں دیگر  زَبانوں   کے ندی نالے اور دریا گرتے رہے ،  برصغیر کی مقبول ترین زَبان اِس سے قبل تلخ ہوتی ۔ اہل لکھنو نے اِس میں  ، اپنی گُل قندی  ادائیگی حروف   کی چاشنی  زعفرانی  لہجوں میں ملائی  ،  تُو اور تَڑاخ سے شروع ہونے والی زُبانوں کے حلق میں ، تم اور آپ کا اَمرت گھولا ۔ متکلّم نے طرزِ کلام کو ایک نُدرت عطا کی ، جس کا لُطف صرف صاحبِ ادراک ہی اٹھا سکتے ہیں ۔
بھولیئے منجھے  تُو کیا جانے انارکلی دیاں شاناں
طرز، کلام ایک طرف تو اظہارِ قربت بنا ۔
آپ سے تم ہوئے اور تُو کا عنواں ہو گئے
اور دوسری طرف اظہارِ دوری بنا ۔
آپ سے تُم اور تُم سے تُو ہونے گی
جب بھی  ، کھمبیوں کی طرح اُگنے والے ٹی وی چینلز پر ، صاحبِ طرزِ کلام کہلانے والوں کی زُبان سے  اَردو زَبان سننے کو ملتی ہے  اور  ہمارے ادیب اور کالم نگار الفاظوں سے کھلواڑ کرتے ہوئے نعرہ ماریں
 غنچے لانا ہمارا قلمدان
تو سمجھیں کہ ادب  کا زوال شروع ہو چکا ہے ، کیوں کہ بےادبوں کی محفل  اب "رنج کی گفتگو "شروع ہونے کو ہے ۔




خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔