میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 12 فروری، 2015

سلطانہ ڈاکو !


  سلطانہ ڈاکو انگریز دور کا ایک مشہور ڈاکو، جو سلطانہ کے نام سے جانا جاتا تھا ، اسکا اصل نام سلطان تھا اور مذھباً مسلمان تھا۔ انگریز دور کا ایک مشہور ڈاکو جسے7 جولائی 1924 کو پھانسی دے دی گئی وہ صوبہ اتر پردیش انڈیا کا رہنے والا تھا۔ وہ امیروں کو لوٹتا اور غریبوں پر خرچ کرتا تھا۔ سلطانہ انگریز راج سے نفرت کرتا تھا۔ اس نے اپنے کتے کا نام "رائے بہادر" رکھا ہوا تھا اور اس کے گھوڑے کا نام "چیتک" تھا۔
سلطانہ ڈاکو جو  بھنتو قبیلے کا ایک ڈاکو تھا  ۔
لیفٹنٹ کرنل  سیموئل پیرز    کے ہاتھوں گرفتار ہوا ۔ جیل کے دوران ایک نوجوان انگریز جیل آفیسر کیپٹن  فریڈی ینگ ،  اُس کا اچھا دوست بن گیا اور اس نے سلطانہ کو بچانے کے لیے قانونی جنگ بھی لڑی۔ پھانسی سے قبل  فریڈی  نے سلطانہ ڈاکو سے اُس کی آخری  خواہش پوچھی تو اُس نے کہا،
"  صاحب میرا ایک بیٹا ہے اُسے آپ اپنی حفاظت میں لے لو اور اپنی طرح صاحب بناؤ !" 
۔ سلطانہ کی پھانسی کے بعد فریڈی نے اس کے بیٹے کو برطانیہ اعلیٰ تعلیم کے لیے بھیجا اور افسر بنا کر اپنا وعدہ پورا کیا اور سلطانہ ڈاکو کے خاندان کو  بھوپال میں آباد کیا ، اُس کی اولاد  آج بھی بیلاوادو  میں عبیداللہ گنج میں رہتے ہیں ۔فریڈی میں جیل خانہ جات محکمہ سے انسپکٹر  جنرل بن کر بھوپال میں  ریٹائر ہوا اور مرنے کے بعد وہیں دفن ہو ا!

سلطانہ وڈیروں جاگیرداروں کو لوٹتا اور غریبوں میں وہ دولت تقسیم کر دیتا تھا۔ایک انگریز لڑکی اس کے عشق میں مبتلا ہوئی اور یہ عشق سلطانہ کی موت تک چلتا رہا۔ اس کے بارے میں یہ بھی مشہور ہے کو وہ عورتوں کا رسیا تھا اور کافی امیر عورتوں کو اس نے ریپ کر کے مار بھی دیا تھا۔ اس سب کے باوجود لوگوں میں وہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا شائد اس کی ایک وجہ اس کی انگریز دشمنی اور امیروں سے لوٹا ہوا مال غریبوں میں تقسیم کرنا تھا۔
 جب اسے پھانسی کے تختہ پہ لایا جا رہا تھا تو لوگوں کا ہجوم باہر اکٹھا ہو گیا جو اس کی شانِ بہادری کے قصیدے اور ترانے پڑھ رہے تھے۔
سلطانہ ڈاکو  کے قصے گانوں میں سنائے جاتے جو ہندوستان میں مقبول ہوئے ، اِس پر 1972 میں  فلم بھی  " سلطانہ ڈاکو  " بنی جس میں ٹائیٹل رول دارا سنگھ نے کیا تھا ۔
جس کا مشہور گانا " مجھ کو منّا دلادے اوپر والے "  محمد رفیع    نے گایا ۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔