میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 16 فروری، 2015

سیہہ۔ لڑائی کروانے کی ماہر

آج صبح واک کرتے ہوئے ۔ یہ کچلا ہوا ہمیں سڑک پر ملا ، اس کے کانٹے سڑک پر بکھرے ہوئے تھی ۔ بیوی نے دیکھتے ہی یک دم روک دیا ۔
"واپس چلیں "۔ وہ بولیں
" کیوں ؟ " میں نے پوچھا 
" آپ دیکھ نہیں رہے کیا پڑا ہوا ہے !" وہ بولیں
" کانٹے ہیں سیہہ کے اور کیا ہیں ۔ بے چاری رات کو کسی کی گاڑی سے کچلی گئی ہے " میں نے وضاحت کی ۔
اور آگے بڑھنے لگا ۔
" رک جائیے ، رک جائیے ۔" وہ تقریباً چلاتے ہوئے بولیں ،
" ورنہ یہیں لڑائی شروع ہو جائے گی "
زندگی کے آخری سالوں میں شیر بوڑھا ہو کر نیک ہو جاتا ہے ۔ لہذا میں چپکے سے واپس مڑ گیا ۔ اور اگلی سڑک سے پارک گئے ۔ اور وہاں بنچ پر بیٹھ گئے ۔ تھوڑی دیر بعد خواتین کی آمد شروع ہوئی ، تو میں اُٹھ کر اکیلا مارکیٹ کی طرف چل پڑا، وہاں جاکر آفس میں بتایا کہ 7 نمبر سٹریٹ میں ، کچلی ہوئی سیہہ پڑی ہے وہ اٹھوا دیں ۔ کچھ جاننے والوں سے ملا آدھے گھنٹے کے بعد سکری مالٹے اور کینو لے کر واپس ہوا ۔
بیوی نے دیکھا ، تو عورتوں سے اجازت لے کر کھڑی ہوگئی ۔ میں سٹریٹ 7 کی طرف مڑا تو بولیں ۔
" یہاں سے نہیں جانا "
" بھئی میں نے صفائی والوں کو بتایا تھا انہوں نے صفائی کر دی ہوگی " میں نے بتایا ۔
" ہاں میں نے اُن کا ٹریکٹر دیکھا تھا " وہ بولیں ۔
لیکن ہمیں مجبوراً دوسری سڑک سے واپس آنا پڑا ۔ اتفاقاً اس سڑک پر مجھے بارش کے پانی کی نالی میں دو سیہہ کے کانٹے نظر آئے ، میں رک گیا ۔
" یہ دیکھو "
ہنس کر بولا،" اب کس راستے سے گھر جائیں؟ "
بیوی چونکی ،" چھوڑو اِسے آگے بڑھو "۔
میں نے پوچھا ، " بھئی کیا ہوتا ہے ۔ اِس جانور کے کانٹوں سے "
" آپ کو نہیں معلوم ، اس سے گھروں میں لڑائی ہوتی ہے " انہوں نے معلومات دی
" تو یہ جس گھر میں جاتی ہوگی ، وہاں یک دم محلے میں شور مچ جاتا ہوگا " میں نے معصومیت سے پوچھا ۔
" محلے میں کیوں ؟ " وہ بولیں ۔
" دو گھروں میں لڑائی ہونے کی وجہ سے !" میں نے کہا
" ارے نہیں ، اس سے میاں بیوی میں لڑائی ہوتی ہے محلے والوں میں نہیں " انہوں نے کہا
" گھر والوں میں تو کم ہوتی ہے ، پڑوسیوں میں زیادہ ۔" میں کہا
"وہ کیسے ؟ " انہوں نے پوچھا ۔
میں نے بتایا ، کہ میرپور خاص میں ، میں ، چھوٹا بھائی، سعادت اور ناصر صبح صبح میرواہ روڈ پر دوڑنے جاتے تھے کوئی تین یں جانا اور واپس آنا ہوتا تھا ۔ کبھی کبھی ناصر اپنا کتا بھی ساتھ لے لیتا تھا ۔ ایک دفعہ واپسی پر ، کتے نے بھونکتے ہوئے جھاڑیوں میں چھلانگ لگائی اور قیاوں قیاؤں کرتا واپس ہماری طرف آیا تو دیکھا کہ اُس کے جسم پر بیس پچیس کانٹے چبھے ہوئے تھے ۔ ناصر نے کانٹے نکالے ۔ سعادت نے بتایا کہ ان کانٹوں کو اگر گھروں میں ڈال دیا جائے تو میاں بیوی میں لڑائی ہو جاتی ہے ۔ ہم تینوں نے وہ کانٹے اٹھا لئے ۔ جھاڑیوں سے بھی کافی کانٹے ملے ، واپسی پر سورج نکل آیا تھا ۔ لہذا اب تو خطرہ مول نہیں لیا جاسکتا ۔ اب کانٹے کہاں رکھے جائے ۔
چھوٹے بھائی نے رائے دی ، کہ ابا تو کوئیٹہ میں ہیں ، لہذا ہمارے گھر میں جھگڑے کا کوئی خطرہ نہیں ۔
صبح واک پر جانے کے لئے آذان سے پہلے اٹھ گئے اور پوری گلی کے ہر گھر کے صحن میں ایک ایک کانٹا پھینک کر دوڑنے چلے گئے واپس آئے تو گلی میں سب باہر نکلے ہوئے تھے ۔ صورت حال معلوم ہوئی ، میاں بیوی تو نہیں لڑے البتہ پڑوسن پڑوس  سے لڑیں ۔ کہ
"یہ کانٹا تو نے میرے گھر پھیکنا ہے " ایک بولی
" نہیں تو نے پھینکا ہے ، تیرا شوھر تجھ سے جھگڑتا ہے اور تو مجھ سے جلتی ہے "

" بس لڑائی تو ہو گئی نا" بیوی اپنے یقین ناپختہ کو پختہ کرتے ہوئے بولیں ۔ 
" میاں بیوی میں ہو یا محلے والوں میں "

  ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 آگے پڑھیئے

سیہہ: جھگڑے کا خوف

 

 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔