میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 17 فروری، 2015

سیہہ: جھگڑے کا خوف

آج پھر ہم واک پر نکلے ، وہیں پہنچے جہاں سیہہ کچلا گیا تھا ۔ دائیں طرف دیکھا ۔ رات کی بارش نے اُس کے کانٹے ، نالی میں بہا دئے تھے ۔ میں نے موبائل سے تصویر لی ۔ بیوی نے دیکھا،
" یہ کیا   کر رہے ہیں " وہ بولیں۔
" بھئی تصویر لے رہا ہوں ۔ اِس سے جھگڑا تو نہیں ہو گا نا " میں نے تصویر لیتے ہوئے کہا ۔ تصویر لینے کے بعد مڑ کر بیوی کی طرف دیکھا ۔ تو وہ پچاس ساٹھ قدم دور تیز چل کر جا رہی تھیں ۔
آگے جا کر رکیں ۔ میں بھی تیز  اُن کی طرف چلا ۔ راستے میں مجھے بال پوئینٹ کا خالی ریفل پڑا دکھائی دیا وہ اٹھا لیا ۔ اور ھاتھ میں چھپا کر بیوی کے پاس پہنچا۔ بھئی یہ یا بات ہے میرا انتظار تو کرتیں !
" میں اِن کانٹوں کی طرف دیکھنا بھی نہیں چاھتی " وہ تنک کر بولیں ۔
خیر ہم واک کر کے پارک میں پہنے اور بنچ پر بیٹھ گئے ۔ مختلف باتیں کرنے کے بعد ہم نے پوچھا ۔
" یہ آپ سیہہ کے کانٹوں سے اتنا کیوں ڈرتی ہیں ؟" میں نے پوچھا ۔
" گبا سا " وہ بولیں ۔
" گبا سا " کرناٹک کی زبان میں "چپ رہو" کو کہتے ہیں ۔ جو ہماری ساس اور سسر ، جب بچوں کے سامنے ایک دوسرے کو خاموش رہنے کے لئے انجان بن کربولتے تھے ۔  بیوی نے بھی " شٹ اَپ " کروانے کا یہی طریقہ شروع کیا ۔ تاکہ دوسروں کے سامنے ہماری عزتِ سادات کا بھرم رہے ۔ ویسے بھی شریف شوہر بیوی سے ڈرتے نہیں اُس کی ریسپیکٹ کرتے ہیں ۔
خیر میں چپ ہو گیا ۔ تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد جیب سے بال پوائینٹ کا ریفل نکالا ۔ اور آگے بڑھاتے ہوئے کہا
" اچھا ، یہ دیکھو ذرا"
اُن کے ذہن میں ،غالباً سیہہ گردش کر رہی تھی ۔ میری طرف دیکھا ۔ میں حیران کہ اِس بڑھاپے میں اتنی پھرتی کہاں سے آگئی ، وہ بجلی کی تیزی سے کھڑی ہوئی اور پانچ دس قدم پر جاکر غصے میں کھڑی ہوگئیں۔
" میں نے آپ کو کہا تھا کہ اِس بارے میں بات نہیں کرنی !"
" میں تو یہ دکھا رہا تھا " میں نے معصومیت سے کہا ۔ 
اُنہوں نے غور سے دیکھا ،" میں سمجھی، کہ آپ اُس کا کانٹا جیب میں ڈال کر لے آئے ہیں "
توہمات سے مشرقی خواتین کا پیچھا چھڑانا مشکل ہے پڑھی لکھی ہو یا ان پڑھ ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 پچھلامضمون

سیہہ۔ لڑائی کروانے کی ماہر


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔