میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 19 فروری، 2015

بلاگرز کی مقبولیت کا گُر

بلاگرز کے گرو نجیب عالم نے میرے اِس معلوماتی تجزئے پر لکھا :
اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کی سب تحریریں ایک سے بڑھ کر ایک ہیں یہ الگ بات ہے کہ کسی کوئی اور کسی کوئی زیادہ پسند آتی ہے.اور یہ بھی ضروری نہیں کہ اگر کسی نے تبصرہ نہیں کیا تو اسے پسند نہ ہو بلکہ دیکھا یہ گیا ہے کہ ہم پاکستانی لوگ اپنی ازلی سستی کی وجہ سے تبصرہ نہیں کرتے-نجیب جی : جو میں نے تجزیہ کیا ہے وہ یہ ہے کہ کتنے لوگوں تک آپ کا پیغام یا تحریر پہنچی ہے ۔ 
فیس بک پر میرے کوئی 4،800 دوست ہیں ۔ جن میں سے کئی کسی بھی قسم کا لائک یا کمنٹس نہیں دیتے ۔ بلاگر پر ڈائریکٹ بہت کم لوگ جاتے ہیں ۔
میرا مختصر مضمون "بد نصیب شخص" جب میں نے فیس بک پر پوسٹ کیا تو ، فیس بک کی ایک بھتیجی نے ، جس کا تعلق آرمی بیک گراونڈ سے ہے اس نے بہت پسند کیا. اُس نے مجھ سے اجازت مانگی،
"انکل میں بہت گروپس کی ممبر ہوں ، اُن پر یہ شیئر کر دوں "
" بیٹی مجھے بہت خوشی ہو گی " میں نے جواب دیا
 کوئی دو دن بعد پرسنل چیٹ پر ، پیغام دیا ۔"انکل : ذرا اپے بلاگ پر کاونٹ دیکھیں ؟"
میں نے کاونٹ دیکھا - تو معلوم ہوا کہ یہ مضمون کوئی 32 ہزار لوگوں نے پڑھا ۔
میں نے اُس معلوم کیا -"یہ کیسے ہوا ؟"
 اُس نے، مجھے تعلیم دی ،کہ ای میل استعمال کرتے ہوئے ۔ فیس بک پر بزریعہ ای میل اپنے تمام گروپس میں یہ مضمون شیئر کر دیا ۔ اور مجھے ای میل کا طریقہ بتایا ۔ اور اُس نے مجھے بھی جن گروپس میں شامل کیا تھا اُس کے ای میل دے دئے ۔
یوں دیکھتے ہی دیکھتے ، کاؤنٹ 50 ہرار کو کراس کر گیا ، تو میں نے ریاض شاہد کو بتایا ۔ تو انہوں نے رائے دی کہ مختلف بلاگ بنانے کے بجائے ۔ اپنے تمام مضمون ایک ہی بلاگ پر دیں اور لنک دے دیں ۔ میں نے ایسا ہی کیا - لیکن پھر سستی اور مصروفیت کی وجہ سے لنک چھوڑ دیا ۔ اور سامنے نظر آنے والے دوتین بلاگ میں ۔ مضمون پوسٹ کر دیتا یوں بھر کچھوے کی چال سے کاونٹ بڑھتا رہا ۔
فروری 16 کو لکھے ہوئے میرے مضمون 
کو غالباً پسندیدگی ملی ، کئی دوستوں نے پرسنل چیٹ پر دوسرے مضمون 
کا پوچھا تو میں نے مراقبہ کے باقی مضامین کو لنک دے دئے ۔ جس سے پڑھنے والوں کی تعداد میں حیرت انگیز اضافہ ہوا ۔
نئے اردو بلاگرز کے لئے چند تجاویز(اساتذہ محترم سے معذرت) :
1- اپنے مختلف موضوعات میں ڈالے ہوئے مضمون کو لنک کریں -
2- فیس بک پر آپ جتنے گروپس کے ممبر ہیں ، اُن پر ضرور ڈالیں ۔
3- اپنے مضمون کی دلچسپ لائن کو ، فیس بک پر ڈالتے ہوئے ، مختصر تعارف میں ڈالیں ۔
یاد رکھئیے ، آج کے دور میں بلکہ سب سے اہم تصویر ہوتی ہے جو ، پوسٹ کی بہترین تشریح بنتی ہے ۔
یہ تصویر ہی ہے جس نے
پر زیادہ  پڑھنے والوں کو کھینچا ۔
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭   


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔