میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 26 فروری، 2015

بلاگرز بڑے چل لاک ہوتے ہیں

بلاگرز  بڑے چل لاک ہوتے ہیں بالکل شاعروں کی طرح زبردستی اپنی ، قلم کاریاں پڑھواتے ہیں ۔
اور ہم تو ویسے بھی فوجی ہیں ، پڑھیں نہ پڑھیں ۔ "کلک" ضرور کردیتے ہیں ، کہ ہمارا ننھا سا قطرہ ، دل کی لگی آگ بجھانے کے شاید کام اجائے ۔ کیوں کہ قطرہ قطرہ دریا بنتا ہے ۔
 ہم بھی بلاگ کا کنڈا ڈالے بیٹھے تھے ، اور حسرت سے سوچتے تھے کہ ہمارا اتنی اچھی تحریر (ہمارے خیال) میں لوگ کیوں نہیں پڑھتے ۔کئی مہینے تک پڑھنے والے پچاس سے اوپر نہیں گئے-
بلاگ سے ہمارا پہلا صحیح تعارف ، بھائی مصطفی ملک نے کروایا تھا ۔یہ 2013 اکتوبر کی بات ہے ہماری پرسنل ونڈو پر پیغام آیا ۔ میرے بلاگ کو پسند کریں ۔ ہم نے گھٹی میں پڑی ہوئی عادت کہ مطابق کہا " حاضر جناب" اور بلاگ پر چلے گئے ۔ جب اُن کے پڑھنے والوں کو دیکھا تو بہت رشک آیا کہ بلاگ ہو تو ایسا ۔ کہ پڑھنے والوں کی بھرمار ہو ۔
پھر
فیس بک کی ایک بھتیجی نے نے مدد کی اور ہمارے پڑھنے والوں کی تعداد بڑھنے لگی ۔
پھر
مصطفی ملک کاپرسنل ونڈو پر پیغام ِ ٹیوٹر آیا ۔ ہمارا کمپیوٹر پر ٹیوٹر اکاونٹ بنا لیکن ، ہماراموبائل ٹیوٹر کے قابل نہیں تھا ، خیر سمارٹ موبائل لیا ۔ لیکن وہ ہمارے قابو ہی نہیں آتا تھا ۔ انگلیاں کہیں رکھتے پڑتی کہیں ۔ بیوی کو دے دیا ۔ کہ تمھاری انگلیاں ذرا پتلی ہیں ۔ لو یہ اچھا ہے ۔ اُس نے بھی تنگ آ کر چھوڑ دیا کہ یہ قابو ہی نہیں آتا ۔ کبھی سکرین ادھر بھاگتی ہے کبھی ادھر-
  ہم مری میں تھے کی ایک دن چھوٹی بیٹی نے بتایا کہ ۔ چم چم  (نواسی) کی پکچر اور وڈیو دیکھیں کتنی پیاری ہیں ۔ تو ہم دونوں میاں بیوی نے بہت انجوائے کی ا۔ پوچھا یہ کیسے آئیں ۔ تو معلوم ہوا کہ معلومات میں ہم چھ مہینے پیچھے رہ گئے ہیں ویسے بھی اُس کا موبائل 60 ہزار والا تھا اور ہمارا صرف 7 ہزار والا۔ پھر یہ عقدہ ایسے کھلا کہ
ہمارے پاس جو موبائل ہے اُس میں بھی وٹس ایپ چلتا ہے ۔ کیوں کہ وہی موبائل بڑی بیٹی کی نند کے پاس تھا ۔ اتوار کو اسلام آباد آئے ۔ موبائل ڈھونڈا مل گیا آن کیا تو خاموش کیوں کہ اُس کی بیٹری مر چکی تھی ۔ بیٹری ڈلوائی ۔ اور بوبو (چم چم کی پھوپو) سے موبائل کی ٹریننگ لی ۔اور یوں ہم سمارٹ موبائل اپنی چیچی (چھنگلیا ) سے آپریٹ کرنے کے ماہر ہو گئے ۔

جب ماہر ہوئے تو ، وٹس ایپ کیا ۔ ٹوٹر کی دنیا میں داخل ہو گئے ۔ ہم حیران ہوتے کہ بلاگ کے مضمون ٹیوٹر پر کیسے آتے ہیں ۔ کیوں کہ پہلے ہم بلاگ کا لنک ٹوٹر پر ٹویٹ کرتے تو کوئی پڑھتا تو کیا دیکھتا بھی نہیں تھا ۔ 
پھر فیس بک پر ہمیں ایک اور خضر راہ ملا ۔جس نےٹویٹر سے عام موبائل فون تک ۔۔۔ مائکرو بلاگنگ   تک کی ترکیب بتائی ۔ اور ہمارے نہ معلوم پڑھنے والوں یا کلک کرنے والوں کی تعدادبڑھنے لگی - جی آپ بالکل صحیح سمجھے ہیں ۔ ٹویٹر پر  لنک  آتا ہے ۔ لہذا ۔ موبائل پر ٹویٹر دیکھنے والے اُسے لازمی کلک کرتے ہیں  

یہ تھی راز کی دوسری بات بلاگرز کے لئے ۔ کیا سمجھے ؟



٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭  


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔