میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 1 مارچ، 2015

مراقبہ-انسانی ذہن کا ارتقائی عمل-5

 جب بچہ اِس دنیا میں آتا ہے، تو ہم اِسے اُس کا مہد کہتے ہیں اور لحد کے سفر تک اُس کا ذہن ارتقائی عمل سے گذرتا ہے جو پانچ حسیات سے دماغ میں آنے والی معلومات سے افعالِ تکمیل کی طرف  نظامِ تقدیر کے مطابق جاتا ہے۔ نظامِ تقدیر ہی کے سہارے  دماغ عمل تدبیر سے گذرتا ہے۔ یہ تدابیر لازمی نہیں کہ اعمال میں ڈھل  جائیں لاکھوں تدبیرات ایسی ہوتی ہیں کہ جو تحت الشعور کی گہرائیوں میں ڈوب جاتی ہیں، وہاں سے تقدیر کے تحت کوئی تدبیر کا ننھا سا بلبلہ چھوڑتی ہیں، جو سطح شعور کی طرف روانہ ہوتا ہے، راہ میں کئی بلبلوں میں شامل ہو کر اپنی جسامت بڑھاتا ہے، ممکن ہے کر شعور ی سطح پر آکر پھٹ کر اعمال میں ڈھل جائے  یاکم جسامت کے ساتھ واپس گہرائیوں کا سفر شروع کر دے  اور پھر مزید حجم بڑھا کر دوبارہ سطح کا سفر شروع کرے۔اس ہم انسانی سوچ کا عمل کہتے ہیں -
یہ سب افعال، دماغ کے اندر ذہن کے شعوری دریچوں میں گردش کرتے رہتے ہیں، اُس وقت تک جب تک انہیں مہمیز ملتی رہتی۔ لیکن جب یہ مہمیز ساکت ہوتی ہے تو یہ اپنے  تحت الشعور کے دریچوں میں تہہ نشین ہوجاتے ہیں۔ یاد رہے، کہ یہاں بلبلوں کی مثال سے اِس لیے سمجھایا ہے تاکہ آپ کو سمجھ آجائے، کہ توانائی کی وہ لہریں جو تدبیر کے اُس ننھے سے ذرے کو دھکیلتی ہیں یا کھینچ کر تحت الشعور سے شعور میں اُس وقت لاتی ہیں۔ جب شعور سے اُن کارابطہ ہوتا ہے۔
 انسانی دماغ نہیں بلکہ ذہن کو سمجھنے کے لئے ہم کمپیوٹر ہارڈ وئر کی مثال لیتے ہیں۔ جب تک اِن پٹ ڈیوائسز سے ہارڈوئر میں سافٹ وئر نہیں ڈالا جائے گا، کمپیوٹر اپنے اِن بِلٹ  ھارڈ وئیر پروگرام (بائیوس)  سے آن ہوتا ہے۔ جونہی پہلا ضروری ڈاس سافٹ ویئر  ڈالتے ہیں وہ فعال ہو جاتا ہے۔ پھر حسبِ ضرورت ایپلیکیشنز ڈالی جاتی ہیں (انگلش الفاظ استعمال کرنے پر پیشگی معذرت، اِس کے بغیر گذارہ نہیں)  
دماغ میں یہ ایپلیکیشنز والدین،  سوسائٹی اور استاد ڈالتے ہیں۔ جس سے شعور بنتا ہے، جو آہستہ آہستہ حیاتی تحت الشعور بناتا جاتا ہے۔ شعور کو ہم کمپیوٹر کی ریم میموری کہہ سکتے ہیں اور تحت الشعور کو ھارڈ ڈسک،  قلب کی مثال سی پی یو  ہے اور دل  پاور سپلائی یونٹ ہے۔ مکمل یونٹ میں تقدیری (خودکار  نظام)  ہوتا ہے اور  آوٹ پٹ ڈیوائسز، انسانی اعضا ہیں۔ جو دماغ  کی طرف سے ملنے والی  ہدایت (افعال)اور ذہن کی طرف سے ملنے والی ہدایت (اعمال) پرکام کرتے ہیں۔
فعل اور عمل کو سمجھنے کے لئے، یوں سمجھیں کہ میں اور آپ سڑک پر جارہے ہیں، آپ پھسلتے ہیں اور سنبھلنے کے لئے میرے کندھے کو پکڑتے ہیں ہم دونوں گر جاتے ہیں۔گرتے ہوئے  آپ کی ٹانگ میرے چہرے پر لگتی ہے۔  آئیے اِن حرکات کو فعل اور عمل کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔
٭۔  میرے گرنے کی حرکت فعلی ہے اور آپ کا میرے کندھے پر ہاتھ رکھنا عملی ہے۔
٭۔ آپ کے گرنے کی حرکت فعلی ہے  لیکن گرنے سے بچنے کی حرکت عملی ہے  اور آپ کی میرے چہرے پر لگنے والی آپ کی ٹانگ فعلی حرکت ہے۔

آپ گرنے سے بچنے کی حرکت کو فعلی نہیں کہہ سکتے۔ جب ایک بچہ پیروں چلنا سیکتا ہے تو اُس کا تمام گرنے کا عمل فعلی ہوتا ہے وہ گرنے سے بچنے کی حرکت نہیں کرتا، اُس کا گرنے سے بچنے کا عمل اُس کے تجربے کے بعد آتا ہے۔
گویا  ایک بچے کا جب ذہن بنتا ہے  تو اُس کا مکمل شعور وہی ہوتا ہے جو پیدائش کے بعد بنا شروع ہوتا ہے۔ اُس کے تحت الشعور میں پیدائش سے پہلے کے تمام افعال ہوتے ہیں، اعمال نہیں۔  پیدائش کے بعد وہ جوں جوں بڑا ہوتا ہے ذہن میں اُس کا شعور زیادہ ہوتا ہے اور تحت الشعور کم، لیکن وقت اور عمر کے ساتھ ساتھ اُس کے تحت الشعور کا حجم بڑھتا جاتا ہے لیکن شعور کا حجم اتنا ہی رہتا ہے۔تحت الشعور سے شعور میں معلومات کھینچ کر لانا مشکل ہوتا ہے۔
کوشش کریں کہ اپنا بچپن یاد کریں؟ مشکل ہے نا!
 بچپن سے اب تک کی تمام حواس خمسہ سے دماغ میں پہنچے والی معلوما ت آپ کے دماغ میں موجود ہیں، لیکن اُن کا  ذہن کے شعور سے رابطہ ٹوٹ چکا ہے۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔