میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

پیر، 16 مارچ، 2015

اقبال- با قرأت مسجد ہا با دانش مکتب ہا



من ہیچ  نمی ترسم  از حادثۂ  شب  ہا
شبہا کہ سحر گردد از گردش کوکب ہا

نشناخت  مقام   خویش  افتاد  بدام  خویش
عشقی کہ نمودی خواست از شورش یارب ہا

آہی کہ ز دل خیزد از  بہر جگر سوزی است
در  سینہ  شکن  او  را  آلودہ  مکن  لب  ہا

در میکدہ باقی نیست از ساقی فطرت خواہ
آن می کہ نمی گنجد  در شیشۂ مشرب ہا

آسودہ نمی گردد آندل کہ گسست از دوست
با  قرأت  مسجد ہا   با   دانش  مکتب  ہا

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔