میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار, مارچ 22, 2015

اعلان جنگ

یہ 14 مارچ کی بات ہے بڑی بیٹی ، چم چم کے ساتھ ویک اینڈ ہمارے ہاں آئی ، اتوار کو شام کو لاونج میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ کہ وہ چلائی ،
" ماما یہ مچھر کہاں سے آگیا ؟"
" ہم سب نے چونک کر دیکھا تو واقعی ایک مچھر نظر آیا اور وہ بھی اِس نیم سردی کے موسم میں اور سب سے بڑا انیائے یہ کہ ہمارے گھر میں جہاں ، مچھر کا اُن کی زیاتی افزائش کے باوجود داخلہ بند ہے ۔ مچھر نظر آنے کے بعد ہمارے گھر میں مورٹین و فنس کی بو کاراج ہوجاتا ہے ۔ 
  میں نے کہا ، " شاید یہ ٹارگٹ کلر پچھلی گرمیوں کا سورما ہے - کوئی بات نہیں ابھی پھانسی پر لٹکاتے ہیں "
یہ کہہ کر ہم نے اُٹھ کر ، مورٹین کا کین اٹھایا اور مچھر کا نشانہ لے کر اُس پر زبردست فائر فائر کیا ، مگر یہ کیا مورٹین نے مچھر کو معافی دینے کا اعلان کر دیا اور " چھس چھس " کر کے فارغ گویا اب مچھر آزاد ، 
چم چم کا ریڈار اُس پر فکس تھا وہ چلا چلا کر اُس کا ممکنہ فلائیٹ پاتھ بتا رہی تھی اور ہم سب مچھر کی اُڑان بالکل ایسے دیکھتے رہے ، جیسے عوام آج کل دیکھ رہی ہے ۔ آُس کے غائب ہونے کے بعد چم چم نے پوچھا ،
" نانو ! یہ خون کیوں پیتا ہے ، وہ تو گندہ ہوتا ہے "
کہ ہماری بیٹی بولی ، " ماما ، اگر یہ خون کی جگہ چربی چُوستا تو کتنا مزا آتا !"
یوں ہم نے اِس معصوم خواہش کو فیس بک پر پبلک کر دیا ۔
آج ایک دوست نے کمنٹ دیا

میجر صاحب،، اس بچاری عورت کو یہ بھی معلوم نہیں، کہ چربی چوسنے سے نہیں، پگھلنے سے کم ھوسکتی ھے،، بقول مُلّا صاحب ، عورت ناقص ال عقل ھے، پسلی کی پیداوار ھے، اور پسلی کی طرح ٹیڑھی بھی ھے، ( مُلا کی اس منطق کو میں بالکل بھی نہیں مانتا )
 لیکن اس پگلی عورت کی "کاش، کاش" کا کیا کہنے،،
 مچھر کا فطرت تبدیل کر نے کے بجاۓ اپنا لائف سٹائل تبدیل کرنے کا بلکل بھی اِرادہ نہیں رکھتی،، یہ اس سیدھی سی بات کو سمجھنے کی کوشش کیوں نہیں کرتی ھے، کہ اپنی خوراک ، نیند اور جسمانی مشقت کی مقدار میں توازن پیداکریں، فزیکل ورزش روزانہ ( خوب پسینہ بہنے تک ) کرتی رہا کریں،، پھر یہ دیکھتی کہ چربی کا پہاڑ کیسے قائم رہتا ھے، ( درج بالا تجاویز پر اگر میجر صاحب کے مشورہ، رہنمائی اور نگرانی میں عمل ھو ، تو بہت کم وقت میں ذیادہ بہتر نتائج برآمد ھو سکتے ہیں ) ،، :))

ہم نے یہ جواب لکھا ، بس پوسٹ کرنے والے تھے خیال آیا کہ کیوں نہ اسے عوام کی بھلائی کے لئے "بلاگ" کر دیا جائے ۔

ارے خورشید احمد بھائی : کیوں اعلان جنگ کروا رہے ہو ؟
'
آپ میں ہمت ہو مجھ میں تو نہیں !

جمعہ کی بات ہے ، میں چم چم کی ڈاکٹر کی یونیفارم تیار کرنے کے لئے مارا مارا پھر رہا تھا ۔ ہاتھی چوک کے کونے پر پارکنگ کرتے ہوئے، ایک کار کو میری کار نے بس تھپکی دی ۔ کہ کار سے برقعاؤں میں بیٹھی دو مستورات نے طبلِ جنگ بجا دیا اور پھرتی سے کار سے اتریں میں نے کار تھوڑا پیچھے کی ۔ اور آگے کرنے لگا ، کہ ایک خواتیںِ مردانہ آواز آئی ٹکر مار کر بھاگ رہے ہو ۔ میں نے گاڑی وہی روک دی اور اترا -

پوچھا کیا ہوا؟
ٹکر مار کر بھاگ رہے ہو ؟
میں نے عرض کی بیٹی مجھ سے تو چلا نہیں جاتا اِس عمر میں کیا بھاگوں گا ! ویسے کیا ہوا ؟ میں نے پوچھا ۔
بیٹی کہنے پراُس نے سوچا کہ یہ ٹکر شرارتاً نہیں بلکہ غالبا ارادتاً کی ہے ۔
"انکل ! آپ کو دیکھ کر چلانا چاھئیے تھا ، آپ نے ٹکر مار دی ہے " میں نے کچھ بولے بغیر اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اُسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا ۔ اور اُن کی گاڑی  کے بمپر کا نزدیکی عینک لگا کر موبائل کی روشنی میں بغور معائنہ کیا اور اپنی گاڑی کی اِس حرکت پر افسوس کے بجائے غصہ آیا ، کہ کم بخت بمپر کو "ناگا ساکی یا ہیرو شیما" بنانے کے بجائے ایک خراش تک نہیں ڈالی ۔
" مبارک ہو بیٹی ! آپ کی گاڑی بچ گئی ۔" کھڑے ہو کر کہا ۔
" انکل آپ کو کار چلانا نہیں آتی آپ نے ٹکر کیوں ماری ؟" ڈرائیونگ سیٹ والی خاتون بولی ۔
" اگر ہم سے ٹکر لگتی تو آپ پیسے مانگتے " دوسری نے سُر لگایا ، جو پسنجر سیٹ سے اتر کر آئی تھی
" یقینا ضرور مانگتا ، اگر میرا نقصان ہوتا " میں نے جواب دیا
" تو آپ نے ہمیں ٹکر ماری ہے ۔ تو نقصان کون دے گا ؟ "۔ کار میں بیٹھی ہوئی خاتون نے گرہ لگائی ۔ غالباً میری بیٹی کی طرح وہ بھی یہ شدید خواہش رکھتی ہوگی ،
" کاش ! کاش ! مچھر خون کے بجائے چربی چوستے "
"جی بتائیے کتنا نقصان ہوا ہے ؟ " میں نے ڈرائیور خاتون سے پوچھا
"کار میری ہے " ۔ گاڑی کے اندر پچھلی سیٹ پر بیٹھی خاتون بولی ۔
" تو آپ بتائیے ؟" میں نے پوچھا -
" کتنا نقصان ہوا ہے ؟" اُس نے کار میں بیٹھے پسنجر سیٹ والی خاتون سے پوچھا
 " کتنا نقصان ہوا ہے ؟" پسنجر سیٹ والی خاتون نے ڈرائیور خاتون سے پوچھا۔
" کچھ نہیں ہوا " ڈرائیورخاتون روہانسی آواز میں بولی ۔
" کچھ نہیں ہوا " پچھلی سیٹ والی خاتون حیرت سے  بولی ۔
" لیکن ایکسیڈنٹ تو ہوا ہے نا ! "
پسنجر سیٹ والی خاتون نے اعتراض لگایا ۔

میں نے مسکراتے ہوئے خاموشی سے اپنا پرس کھولا ، اور اپنا ڈرائیونگ لائسنس نکالا اور ڈرائیور خاتون کے سامنے لہراتے ہوئے کہا " بیٹی یہ میرا ڈرائیونگ لائسنس ہے ، اپنا
ڈرائیونگ لائسنس دکھائیے "۔پسنجر سیٹ کی خاتون کی طرف دیکھتے ہوئے بولا، "میں ٹریفک پولیس کو بلاتا ہوں وہ فیصلہ کرے گی کہ ایکسیڈنٹ ہوا ہے یا نہیں "
 " چھوڑیں ، انکل رہنے دیں ، کوئی نقصان نہیں ہوا ! " ڈرائیور خاتون بولی ۔

کیا سمجھے خورشید احمد بھائی ؟
آپ میں ہمت ہو مجھ میں تو نہیں !
اگر ڈرائیور خاتون کا ڈرائیونگ لائسنس ہوتا ، تو میرا بچنا نہایت مشکل تھا ، کیوں ایکسیڈنٹ تو ہوا تھا !



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔