میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار, مارچ 29, 2015

آج اور گذرا کل


 پیارے بچو! لڈو کو اُٹھانے کے شوق میں جب کہنی کے ٹینس ایلبو نے دوبارہ سر اُبھارا تو بوڑھے نے اپنے لڈو کو اس جھولے میں اٹھایا تو چم چم ضد کرنے لگی کہ وہ بھی اس میں بیٹھے گی۔ بوڑھے  نے بہت سمجھایا کہ وہ بڑی ہے ۔ لیکن چم چم  نے ضد شروع کر دی کہ نہیں وہ چھوٹی ہے ، وہ ضرور بیٹھے گی خیر چم چم کو  اٹھا کر چم چم بڑی مشکل سے اس جھولے میں بٹھایا توچم چم نے خوشی سے نعرے  مارنے شروع کر دئے اور بوڑھے کہنے لگی کہ اب چکر لگاؤ ، بوڑھے نے اُسے گول گول گھمانا شروع کر دیا، وہ خوشی سے ہنسنے لگی ، بڑھیا نے کہا ، کہ اِسے شیشے کے سامنے لے جائیں۔
   
تو بوڑھا  اسے شیشے کے سامنے لے گیا ۔ تو چم چم کو خود احساس ہوا کہ وہ کافی بڑی ہو گئی ہے ۔ اب یہ جھولا ، لڈو اور برفی کئے لئے ٹھیک ہے ۔
چم چم نے پو چھا،" آوا ، جب وہ چھوٹی سی " گو گو گا گا " تھی تو کیا میں نے اُسے اٹھایا تھا ؟
پھر بوڑھے نے چم چم کو اُس کے بچپن کی یہ تصویر دکھائی تو چم چم کو یقین آیا ، کہ آغا جان اُسے بھی ایسا ہی پیار کرتے تھے جیسے ، لڈو سے ۔
اور تو اور میری سال بھر کی برفی میں بھی بچگانہ حسد ہے ۔ میری بہو نے اپنے بھائی کے دو ماہ کے  رس گُلے جیسے بیٹے "عیسیٰ" کو اٹھا لیا ، تو برفی ہوں ہوں کر کے شور مچائے اور بھنوں کو ناک کے اوپر سمیٹ کر غصہ دکھائے ۔
برفی کا یہ ایکشن اُس نے اُس دن شروع کیا جب وہ دادو کا موبائل اٹھانے لگی تو دادو نے انگلی کے اشارے سے " نو " کہا ۔ تو برفی نے دونوں بھنویں ناک کے اوپر سمیٹ کر غصے کا اظہار کیا ،
ہم دونوں بہت ہنسے اور ہمیں مزہ آگیا ۔ ہم نے کئی دفعہ یہ دھرایا اور انجوائے کیا ۔
خیر ہم دونوں میاں بیوی نے اپنے چاروں بچوں کی ، اسی طرح کی خرکتوں کو بہت انجوائے کیا ۔ بلکہ نہ صرف اُن کی وڈیو بنائی بلکہ آڈیو بھی بنائیں ۔
جو اب ہمارے لئے یادگار ہیں ۔ میں جب ایکسر سائز پر جاتا تو چاروں بچے ، مجھے خط لکھتے ۔ سیاچین میں جب بچے زیادہ یاد آتے تو میں اُن کی کیسٹ لگا لیتا ، جو اُن کے بے خبری میں ریکارڈ کی ہوتیں ۔ عموما گل بچوں کو پڑھا رہی ہوتی اور جھاڑ پڑنے پر وہ ، اپنی اپنی دلیلوں سے ماں کو قائل کرتے ۔
ارمغان اور اُس کی بیوی ، بڑی بیٹی اور اُس کا شوہر ویک اینڈ پر آئے تھے تو میں نے ایک 1985 کی ایک پرانی آڈیو لگا دی ۔ جب میں چمن میں تھا اور گل نے ریکارڈ کر کے بھجوائی تھی ، تھوڑا غور کرنے کے بعد دونوں نے اپنی آوازیں پہچان لیں اور خوب ہنسے ۔  

میری البم سے کچھ اچھوتا انتخاب

 

 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔