میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 30 مارچ، 2015

مذکر اور مؤنث میں جنسی کشش




سنا ہے کچھ سال پہلے ایک معروف امریکی یونیورسٹی میں مرد اور عورت کے جنسی کشش کے حوالے سے ایک تجربہ کیا گیا۔

اس کے لیئے ایسی 100 خواتین اور 100 مرد حضرات کا انتخاب کیا گیا۔ جو آپس میں کبھی نہ ملے تھے۔ ان مرد و خواتین کو ایک دوسرے سے مکمل طور پر الگ تھلگ رکھتے ہوئے انہیں ایک دوسرے کے استعمال شدہ انڈر گارمنٹس دیئے گئے۔ اور کہا گیا کہ وہ ان انڈر گارمنٹس کی بُو سونگھ کر اپنے لئے کسی ایک سیکس پارٹنر کا فیصلہ کریں۔

لہذا ہر خاتون کو 100 مردوں کے استعمال شدہ اور ہر مرد کو 100 خواتین کے استعمال شدہ انڈر گارمنٹس سونگھنے کے لیئے فراہم کیئے گئے۔ اس تجربے کے نتائج حیران کن تھے۔ جس مرد نے جس خاتون کے انڈرگارمنٹس کی بُو کو پسند کیا، اس خاتون نے بھی اسی مرد کے انڈرگارمنٹس کی بُو کو پسند کیا تھا۔

تجربہ کو آگے بڑھاتے ہوئے ، ان مرد و خواتین کا ڈی-این-اے ٹیسٹ کیا جائے۔ اس ڈی-این-اے ٹیسٹ کے نتائج چونکا دینے والے تھے۔ جن خواتین و حضرات نے ایک دوسرے کو اپنا سیکس پارٹنر منتخب کیا تھا، ان کی ڈی-این-اے کوالٹی اور سٹرکچر کو ایک دوسرے سے یکسر مختلف یا متضاد پایا گیا۔ یعنی جن مرد و خواتین کا ڈی-این-اے جس قدر مختلف ہو، ان میں جنسی کشش اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے۔ 

   بہن بھائی ایک دوسرے کے قریب ہوتے ہوئے بھی کبھی کوئی جنسی کشش محسوس نہیں کرتے۔ کیونکہ ان کا ڈی-این-اے یکساں خصوصیات کا حامل ہوتا ہے۔

گویا فطرت نے اس بات کا اہتمام کررکھا ہے کہ ہمیشہ متضاد ڈی-این-اے ایک دوسرے سے جنسی کشش محسوس کرتے ہوئے جنسی اخلاط کریں، جس کے نتیجہ میں ہر دفعہ پہلے سے بہتر ڈی-این-اے کی حامل نسل پیدا ہو۔ اور یوں انسانی ذہن اور صلاحیتیں مسلسل ارتقاء کی منازل طے کرتی چلی جائیں۔




خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔