میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

پیر، 16 مارچ، 2015

خسرو- اگرم چو بخت روزی بہ کنار خواہی آمد



خبرم رسید  امشب کہ نگار خواہی آمد
سر من فدای راہی کہ سوار خواہی آمد

بہ لبم   رسیده جانم ، تو   بیا   کہ  زنده مانم
پس از آں کہ من نمانم، بہ چہ کار خواہی آمد

غم و قصہ فراقت بکشد چناں کہ دانم
اگرم چو بخت روزی بہ کنار خواہی آمد

منم و دلے و آہے . ره تو دروں ایں دل
مرو ایمن اندر ایں ره کہ فگار خواہی آمد

همہ آہواں صحرا سر خود گرفتہ بر کف
بہ امید آں کہروزی بہ شکار خواہی آمد

کششے کہ عشق دارد نگذاردت بدینساں
بہ جنازه گر نیائی ، بہ  مزار خواہی آمد

بہ یک آمدن ربودی، دل و دین و جان خسرو
چہ شود اگر بدیسان دو سہ بار  خواہی   آمد

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔