میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

پیر، 16 مارچ، 2015

مَن آمدہ اَم۔ عشق فرياد كنند


مَن آمُده اَم ،  وَائ وَائ، مَن آمُده اَم
میری آمد ہوئی ، واہ واہ ۔ میری آمد ہوئی !
عشق فرياد كُنند 

عشق نے فریاد کی
مَن آمُده اَم كہ ناز بُنياد كُنند
 میری آمد ہوئی ،  کہ   ناز  (و ادا)  کی بنیاد ہو
 مَن آمُده ام ،    وائ وائ
میری آمد ہوئی ، واہ واہ 
اي دلبر من الہي صد سالہ شوي 
یہ میرا دلبر    ، الہٰی صد سال رہے
در پہلوي ما نشستہ ہمسايہ شوي 
میرے پہلو میں ہمسایہ   بیٹھا  رہے 
ہمسايہ شوي كہ دست بہ ما سايہ كني میرا ہمسایہ رہے ، کہ میرے ھاتھ پر سایہ کرے
شايد كہ نصيب من بيچار شوي شاید کہ میرا نصیب   بے چار  رہے  
مَن آمُده اَم ،  وَائ وَائ، مَن آمُده اَم
میری آمد ہوئی ، واہ واہ ۔ میری آمد ہوئی !
عشق فرياد كُنند 

عشق نے فریاد کی
مَن آمُده اَم كہ ناز بُنياد كُنند
 میری آمد ہوئی ،  کہ   ناز  (و ادا)  کی بنیاد ہو
 مَن آمُده ام ،    وائ وائ
میری آمد ہوئی ، واہ واہ


عشق آمد و خيمہ زد بہ صحرائ دلم
عشق کی آمد ہوئی اور میرے دل  کے صحرا میں خیمہ زد ہوا
زنجير وفا فكننده در پاي دلم 
زنجیر وفا سے میرے دل کے پاؤں جکڑ لے گئے 
عشق اگر بہ فرياد دل ما نرسد عشق کی  اگر فریاد  دل میں نہ  پہنچے
اي وائ دلم ،وائ دلم ،وائ دلم اے وائے  میرے دل  ، وائے  میرے دل ، وائے  میرے دل 


مَن آمُده اَم ،  وَائ وَائ، مَن آمُده اَم
میری آمد ہوئی ، واہ واہ ۔ میری آمد ہوئی !
عشق فرياد كُنند 

عشق نے فریاد کی
مَن آمُده اَم كہ ناز بُنياد كُنند
 میری آمد ہوئی ،  کہ   ناز  (و ادا)  کی بنیاد ہو
 مَن آمُده ام ،    وائ وائ
میری آمد ہوئی ، واہ واہ
بيا كہ بَرويم از اين ولايت مَن و تو 
 آ کہ اِس (عشق) کے ساتھ میں اور تو ولایت  (دور)  چلے جائیں 
تو دست منُ    بگير و مَن دامنِ تو 
تو میرا دست پکڑ  اور میں تیرا دامن
جائي برسيم كہ ہر دو بيمار شويم کہ   ہجرت کی جگہ پر ہم دونوں بیمار ہو جائیں
تو از غم بيکسی و من از غم تو 
تو بیکسی کے غم سے اور میں تیرے غم میں 


مَن آمُده اَم ،  وَائ وَائ، مَن آمُده اَم
میری آمد ہوئی ، واہ واہ ۔ میری آمد ہوئی !
عشق فرياد كُنند 

عشق نے فریاد کی
مَن آمُده اَم كہ ناز بُنياد كُنند
 میری آمد ہوئی ،  کہ   ناز  (و ادا)  کی بنیاد ہو
 مَن آمُده ام ،    وائ وائ
(مادام گوگوش )

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔