میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 16 مارچ، 2015

دلِ خستہ جو لہو ہوگیا، تو بھلا ہوا کہ کہاں تلک



کئی دن سلوک وداع کا مرے درپئے دلِ زار تھا
کبھو درد تھا، کبھو داغ تھا، کبھو زخم تھا، کبھو وار تھا

دمِ صبح بزمِ خوشِ جہاں، شب غم سے کم نہ تھے مہرباں
کہ چراغ تھا سو تو دُود تھا، جو پتنگ تھا سو غبار تھا

دلِ خستہ جو لہو ہوگیا، تو بھلا ہوا کہ کہاں تلک
کبھوسوز سینہ سے داغ تھا ، کبھو درد و غم سے فگار تھا

دل مضطرب سے گزرگئی، شبِ وصل اپنی ہی فکر میں
نہ دماغ تھا، نہ فراغ تھا، نہ شکیب تھا، نہ قرار تھا

جو نگاہ کی بھی پلک اٹھا تو ہمارے دل سے لہو بہا
کہ وہیں وہ ناوکِ بے خطا، کسو کے کلیجے کے پار تھا

یہ تمہاری ان دنوں دوستاں مژہ جس کے غم میں ہے خونچکاں
وہی آفتِ دلِ عاشقاں، کسو وقت ہم سے بھی یار تھا

نہیں تازہ دل کی شکستگی، یہی درد تھا، یہی خستگی
اُسے جب سے ذوقِ شکار تھا، اِسے زخم سے سروکار تھا

کبھو جائے گی جو اُدھر صبا تو یہ کہیو اُس سے کہ بے وفا
مگر ایک میر شکستہ پا، ترے باغِ تازہ میں خار تھا 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔