میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 16 مارچ، 2015

عشق فرياد كند



من آمده ام واي واي ، من آمده ام 
عشق فرياد كند 

اي دلبر من الہي صد سالہ شوي 
در پہلوي ما نشستہ ہمسايہ شوي 
ہمسايہ شوي كہ دست بہ ما سايہ كني 
شايد كہ نصيب من بيچاره شوي 

من آمده ام واي واي، من آمده ام 
عشق فرياد كند 

من آمده ام كہ ناز بنياد كند من آمده ام 
عشق آمد و خيمہ زد بہ صحراي دلم 
زنجير وفا فكنده در پاي دلم 

عشق اگر بہ فرياد دل ما نرسد 
اي واي دلم واي دلم واي دلم 
من آمده ام واي واي من آمده ام 
عشق فرياد كند 

من آمده ام كہ ناز بنياد كند من آمده ام 
بيا كہ برويم از اين ولايت من و تو 
تو دست منو بگير و من دامن تو 
جائي برسيم كہ ہر دو بيمار شويم 
تو از غم بيکسی و من از غم تو 

من آمده ام واي واي ، من آمده ام 
عشق فرياد كند 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔