میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 16 مارچ، 2015

ابھی تو میں جوان ہوں


ابھی تو میں جوان ہوں 

ہوا بھی خوش گوار ہے 
گلوں پہ بھی نکھار ہے 
ترنّمِ ہزار ہے 
بہارِ پُر بہار ہے 

کہاں چلا ہے ساقیا 
اِدھر تو لوٹ، اِدھر تو آ 
یہ مجھ کو دیکھتا ہے کیا 
اٹھا سبُو، سبُو اٹھا 

سبُو اٹھا، پیالہ بھر 
پیالہ بھر کے دے اِدھر 
چمن کی سمت کر نظر 
سماں تو دیکھ بے خبر 

وہ کالی کالی بدلیاں 
افق پہ ہو گئیں عیاں 
وہ اک ہجومِ مے کشاں 
ہے سوئے مے کدہ رواں 

یہ کیا گماں ہے بد گماں 
سمجھ نہ مجھ کو ناتواں 
خیالِ زہد ابھی کہاں 
ابھی تو میں جوان ہوں 

عبادتوں کا ذکر ہے 
نجات کی بھی فکر ہے 

جنون ہے ثواب کا 
خیال ہے عذاب کا 

مگر سنو تو شیخ جی 
عجیب شے ہیں آپ بھی 
بھلا شباب و عاشقی 
الگ ہوئے بھی ہیں کبھی 

حسین جلوہ ریز ہوں 
ادائیں فتنہ خیز ہوں 
ادائیں عطر بیز ہوں 
تو شوق کیوں نہ تیز ہوں 

نگار ہائے فتنہ گر 
کوئی اِدھر کوئی اُدھر 
ابھارتے ہوں عیش پر 
تو کیا کرے کوئی بشر 

چلو جی قصّہ مختصر 
تمھارا نقطۂ نظر 
درست ہے تو ہو مگر 

ابھی تو میں جوان ہوں 

نہ غم کشود بست کا 
بلند کا نہ پست کا 
نہ بود کا نہ ہست کا 
نہ وعدۂ الست کا 

امید اور یاس گم 
حواس گم، قیاس گم 
نظر کے آس پاس گم 
ہمہ بجز گلاس گم 

نہ مے میں کچھ کمی رہے 
قدح سے ہمدمی رہے 
نشست یہ جمی رہے 
یہی ہما ہمی رہے 

وہ راگ چھیڑ مطربا 
طرب فزا، الم رُبا 
جگر میں آگ دے لگا 
ہر ایک لپ پہ ہو صدا 
پلائے جا پلائے جا 

ابھی تو میں جوان ہوں 

یہ گشت کوہسار کی 
یہ سیر جوئبار کی 

یہ بلبلوں کے چہچہے 
یہ گل رخوں کے قہقہے 

کسی سے میل ہو گیا 
تو رنج و فکر کھو گیا 
کبھی جو بخت سو گیا 
یہ ہنس گیا وہ رو گیا 

یہ عشق کی کہانیاں 
یہ رس بھری جوانیاں 
اِدھر سے مہربانیاں 
اُدھر سے لن ترانیاں 

یہ آسمان یہ زمیں 
نظارہ ہائے دل نشیں 
انھیں حیات آفریں 
بھلا میں چھوڑ دوں یہیں 
ہے موت اس قدر قریں 
مجھے نہ آئے گا یقیں 
نہیں نہیں ابھی نہیں 

ابھی تو میں جوان ہوں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔