میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

پیر، 16 مارچ، 2015

اقبال- ایسے غزل سرا کو چمن سے نکال دو



دلت می لرزد از اندیشہ مرگ
زبیمش  زرد  مانند  زریری

بخود باز آ، خودی را پختہ تر گیر
اگر گیری، پس از مردن نہ میری

دل بے باک را ضرغام رنگ است
دل ترسندہ  را   آہو  پلنگ است

اگر بیمی نداری، بحر صحر است
اگر ترسی بہر موجش نہنگ است

بہ  گوشم  آمد   از   خاک  مزارے
کہ در زیر زمیں ہم می تواں زیست

نفس دارد و لیکن جاں نہ دارد
کسے کو بر مراد دیگراں زیست

گر بہ اللہ الصمد دل بستہ ای
از حد اسباب بیروں جستہ ای

بندہ حق، بندہ اسباب نیست
زندگانی گردش دولاب نیست

اقبال کے نفس سے ہے لالے کی آگ تیز
ایسے غزل سرا کو چمن  سے  نکال  دو

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔