میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 16 مارچ، 2015

شگفتہ شگفتہ بہانے ترے



وہ باتیں تری وہ فسانے ترے
شگفتہ   شگفتہ  بہانے  ترے

بس اک داغِ سجدہ مری کائنات 
جبینیں تری ، آستانے ترے 

بس اک زخمِ نظّارہ، حصّہ مرا 
بہاریں تری ، آشیانے ترے 

فقیروں کا جمگھٹ گھڑی دو گھڑی 
شرابیں تری ، بادہ خانے ترے 

ضمیرِ صدف میں کرن کا مقام 
انوکھے انوکھے ٹھکانے ترے 

بہار و خزاں کم نگاہوں کے وہم 
برے یا بھلے، سب زمانے ترے 

عدم بھی ہے تیرا حکایت کدہ 
کہاں تک گئے ہیں فسانے ترے

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔