میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 16 مارچ، 2015

رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے



تو کہ ناوا قفِ آدابِ شہنشاہی تھی
رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے
تجھ کو انکار کی جرّات جو ہوئ تو کیونکر
سایہ ِءشاہ میں اس طرح جیا جاتا ہے

اہلِ ثروت کی یہ تجویز ہے، سر کش لڑکی
تجھ کو دربار میں کوڑوں سے نچایا جاے
ناچتے ناچتے ہو جائے جو پائل خاموش
پھر نہ تازیست تجھے ہوش میں لایا جاے

لوگ اس منظر جانکاہ کو جب دیکھیں گے
اور بڑھ جاے گا کچھ سطوتِ شاہی کا جلال
تیرے انجام سے ہر شخص کو عبرت ہوگی
سر اٹھانے کا رعایا کو نہ آئے گا خیال

طبعِ شاہانہ پہ جو لوگ گِراں ہوتے ہیں
ہاں انھیں زہر بھرا جام دیا جاتا ہے
تو کہ ناواقفِ آدابِ شہنشاہی تھی
رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے

یہ حبیب جالب کی وہ مشہورنظم ہے جوانہوں نے شان کی والدہ اداکارہ نیلوکے لیے اس وقت لکھی تھی، جب انہوں نے 1965 میں شاہ ایران کے دورہ پاکستان کے موقع پررقص سے انکارکردیاتھا، پاکستان کی سپرہٹ فلم زرقامیں اس نظم پر مہدی حسن خان صاحب کی آواز میں گانابھی فلمایاگیاہے

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔