میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 16 مارچ، 2015

قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیں


قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیں
جذب  باہم  جو  نہیں ،  محفل ِ انجم بھی نہیں

تو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سے
نشہ   قے  کو  تعلق   نہیں   پیمانے   سے

اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم ِ رسولِ ہاشمی

دامن دیں ہاتھ سے چھوٹا تو جمعیت کہاں
اور جمعیت ہوئی رخصت تو ملت بھی گئی

یہی مقصود فطرت ہے یہی رمز مسلمانی
اخوت کی جہانگیری ، محبت کی فراوانی

بتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہوجا
نہ  تورانی   رہے   باقی  ،  نہ   ایرانی  نہ  افغانی

ہوس نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے نوع انساں کو
اخوت کا بیاں ہو جا ، محبت  کی  زباں ہو جا

یہ ہندی ، وہ خراسانی ، یہ افغانی ، وہ تورانی
تو اے شرمندہ ساحل ، اچھل کر بیکراں ہوجا

ربط ملت و ضبط ملت بیضا ہے مشرق کی نجات
ایشیا والے ہیں اس نکتے سے  اب  تک  بے خبر

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے
نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاک کاشغر

نسل گر مسلم کی مذہب پر مقدم ہوگئی
اڑ گیا دنیا سے تو  مانند  خاک  رہ  گزر

اس دور میں قوموں کی محبت بھی ہوئی عام
پوشیدہ   نگاہوں   سے   رہی   وحدت   آدم

تفریق ملل حکمت افرنگ کا مقصود
اسلام  کا  مقصود  فقط  ملت  آدم

مکہ نے دیا خاک جینو ا کو یہ پیغام
جمعیت   اقوام   ہے  جمعیت   آدم

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔