میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

پیر، 20 اپریل، 2015

ہونہار بروا-6

ایبٹ آباد، رات آٹھ بجے ہم بلوچ میس کے گیسٹ روم پہنچے۔غالباً  جولائی 1999کی 19 تاریخ تھی۔ میس میں نعیم نے کمرے کے سامنے گاڑی کھڑی کی۔ بچوں نے سامان اٹھا کر کمرے میں پہنچایا۔ چونکہ ہم نے میس میں کھانے کا نہیں بتایا تھا کھانے کا پروگرام باہر تھا۔ چنانچہ سامان رکھ کر ہم شہر کی طرف نکل گئے اور ہوٹل میں کھانا کھایا۔ رات واپس آئے تو ہمیں، اٹینڈنٹ نے بتایا کہ میجر منیر بٹ صاحب نے پیغام دیا ہے کہ کل دو بجے کے بعد ہم شنکیاری کے لئے روانہ ہوں گے۔ آپ لوگ دوپہر کا کھانا ہمارے ساتھ کھائیں گے اور ہم رات شنکیاری میں ہی ٹہریں گے۔ 
دوسرے دن،گیارہ بجے میجر منیر بٹ نے گاڑی بھیج دی کیوں کہ نعیم صبح صبح گالف کھیلنے نکل گئے تھے۔ ہم  میجر منیر بٹ  کے گھر پہنچے وہاں، ان کے بچے، اسد، عائشہ، احسن اور مومنہ ہمارے بچوں کے ہم عمر تھے۔ نعیم اور  میجر منیر بٹ  ساتھ آئے۔ کھانا کھایا اور تقریباً ساڑھے تین بجے اپنی اپنی گاڑیوں میں شنکیاری کے لئے روانہ ہوئے۔ راستے میں مانسہرہ بائی پاس سے گذرتے ہوئے شہنشاہ اشوکا کے کھنڈرات کے پاس رکے، بچوں نے تصویریں بنائیں۔ پھر سب روانہ ہوئے۔ شنکیاری، مغرب سے پہلے پہنچے اور میس میں جا کر ٹہرے،
شنکیاری سے ہم دونوں فیملی کی پرانی یادیں وابستہ ہیں۔ غالباً اگست 1981میں نعیم  نے جہلم سے کمپنی کمانڈر کورس کرنے  شنکیاری ڈویژنل بیٹل سکول جانا تھا۔ چنانچہ انہوں نے چھٹی لے کرمجھے اور سائرہ کو میرپورخاص چھوڑا اور خود شنکیاری آگئے۔ یہاں  میجر منیر بٹ صاحب بھی گلگت سے کورس کرنے آئے انہوں نے نعیم کو قائل کیا کہ فیملی لے آئیں اور دونوں مل کر شہر میں گھر کرائے پر لے لیتے ہیں۔ چنانچہ نعیم نے مجھے خط لکھا، میں دس ستمبر کو اپنی زندگی میں پہلی دفعہ اکیلی سفر پر نکلی اور وہ بھی حیدر آباد سے راولپنڈی تک، دس مہینے کی سائرہ کے ساتھ یہ میرا ایک دلچسپ سفر تھا۔ راولپنڈی میں نعیم آگئے۔پھر ان کے ساتھ شنکیاری پہنچی، مسز منیر بٹ بھی اپنے سات مہینے کے بیٹے اسد کے ساتھ آگئیں۔  
شنکیاری میں دبئی سے آنے والے ایک شخص نے ہوٹل بنایا تھا۔ جس کی پہلی منزل پر پانچ کمرے تھے۔ وہ تین سال سے خالی پڑا تھا صرف گراونڈ فلور کی دکانیں کرایہ پر لگی تھیں وہ۔ ان دونوں نے کرایہ پر لے لیا سرکاری فرنیچر میں صرف چار، ٹیوبلر چارپائیاں اور تین کرسیاں لے کر رہنے کے قابل بنایا، اور ہم دونوں فیملی 29اکتوبر 1981تک یہاں ٹہرے۔ ان دونوں کے جانے کے بعد ہم دونوں اور دونوں بچوں میں مصروف ہو جاتیں۔ دو بجے آنے کے بعد نعیم کھانا کھاتے سو جاتے اور رات کے کھانے کے بعد یہ دونوں دوسرے کمرے میں بیٹھ کر پڑھتے، ویک اینڈ پر ہم دونوں اپنے اپنے شوہروں کے ساتھ گھومنے نکل جاتے۔
شنکیاری میں میجر منیر بٹ صاحب کی یونٹ آفیسر میجر اکبر، جو وہاں سیکنڈ اِن کمانڈنے اپنے گھررات کے کھانے کی دعوت دی تھی۔ فوجیوں کی دعوت میں ایک خوبی یہ ہوتی۔ کہ چکن تکہ، حلیم اور دیگر کھانوں کے ساتھ سوئیٹ ڈش لازمی ہو تی ہے۔ بیٹ مین (سرکاری خدمت گار)  ”سپیٹ ڈش“ کہتے ہیں۔ سب نے کھانا کھایا، پھر بچوں اپنے کھیل میں لگ گئے۔ چار بچے میرے، چار منیر بھائی کے،تین میجراکبر صاحب کے اور کوئی سات بچے دوسرے آفسروں کے آگئے، اب یہ  اٹھارہ بچے مل کر کھیلیں اور خوب اودھم منائیں، تھک ہار کر جب بچے ہمارے پاس آکر بیٹھ گئے۔رات کے نو بج گئے۔ تو میں نے بچوں میں، مختلف کہانی، نظمیں اور تلاوت  کا مقابلہ رکھ دیا۔ نعیم کی یہ عادت ہے کی وہ  اپنی گاڑی میں ٹافیوں کے پیکٹ ضرور رکھتے ہیں۔ یوں کہیں کہ جب بھی ہم لمبے سفر پر نکلتے تو یہ سائرہ اور عروضہ کی ذمہ داری ہوتی تھی کہ وہ راستے کے لئے، چپس، نمکو، چاکلیٹ، ٹافیاں اور چاول کی پٹی  ضرور رکھتیں۔  
چنانچہ اب بچوں نے مختلف آئٹم سنانے شروع کئے تو،  بچوں کے نغمے سن کر باقی تین فیملیز بھی آگئیں۔ ایک بلوچ رجمنٹ کے میجر صاحب مسز، ان کے تین بچے ،دوسری  ایف ایف رجمنٹ کے میجر صاحب کی ان کے چار بچے  اور تیسری کیپٹن ایجوٹنٹ صاحب کی ان کی شادی کو ایک مہینہ ہوا تھا پنجاب یونیورسٹی سے پڑھی ہوئی تھیں۔ایک خاتون مجھے جانی پہچانی لگیں۔  جب مجھ سے ہاتھ ملانے لگیں  تو ایک دم ”گل بھابی“ کہہ کر گلے لپٹ گئیں، اُف، ایک دم مجھے یاد آیا۔ دبلی پتلی سی، مسز ریاض، تین بچوں کے بعد پھیل کر واقعی ناقبل یقین حد تک موٹی ہوگئیں تھیں۔ جب ہم چمن میں تھے تو نعیم1987میں  ”گنری سٹاف“ کے لئے سلیکٹ ہو کر نوشہرہ جانے کی تیاری کر رہے۔ تو یہ غالبا جنوری میں، شادی کے بعد چمن آئیں تھیں۔ چمن میں کل پانچ سکاؤٹ کے اور تین آرمی کے آفیسرز کی فیملیز رہتی تھیں۔سب اپنے اپنے گھروں میں گھسے رہتے تھے، میں جب گھر ملنے پر چمن آئی، تو نعیم ایجوٹنٹ تھے۔ انہوں نے وہاں پہلی دفعہ ”کچن وارمنگ پارٹی دی“ اور سب آفیسرز کو فیملیز اور بچوں کے ساتھ بلایا، سب نے لطف اٹھایا اور اس کے بعد ہر بدھ کو کسی نہ کسی کے گھر ون ڈش پارٹی ہو نے لگی۔جس گھر کی جو مہارت تھی وہ، وہ ڈش بنا کر لاتا۔ میزبان صرف، بار بی کیو بناتا۔اور سب مل کر کھاتے۔ بچوں کے مختلف مقابلے بھی ہوتے۔اور ہر بچے کو انعام ملتا۔ نیز ایک اصول یہ بھی تھا کہ جو آفیسر چھٹی سے واپس آئے گا وہ بے چارے چھٹی نہ جانے والوں کی دلجوئی کے لئے، اپنے شہر کی میٹھی سوغات لائے گا۔ خواہ وہ  ”ریوڑیاں“ ہی کیوں نہ ہوں اور ڈبہ لازمی ہوگا (تاکہ شہر کا نام پڑھا جاسکے)  ڈبے کے بغیر ”سوغات“ لانے والے پر جرمانہ ہو گا۔ اور وہ سب فیملیز کو کھانا کھلائے گا۔شروع میں، اکثر آفیسزر واپسی کی جلدی میں مٹھائی لانا بھول جاتے۔یوں ایک پارٹی کا اور مزہ اڑایا جاتا۔ رمضان میں افطار پارٹیاں تو لازماً ہوتی ہیں۔
بچوں کا مقابلہ شروع ہونے لگا تو میں نے رائے دی بے چارے گھروں میں اکیلے بیٹھے ہوئے، اِن کے ”میاؤں“ کو بھی بلا لیں۔ چنانچہ دونوں میجر صاحبان اور کپتان صاحب بھی آگئے۔  میجر ریاض نے کہا،
”میجر نعیم سر آپ نے تو چمن والی محفل سجا دی ہے“۔
فوج میں جب کورس میٹ، یونٹ آفیسرز یا ایک سٹیشن پر ساتھ سروس کرنے والے آفیسرز جب ملتے ہیں تو پہلے تو ماضی کے قصے، پھر کون کہاں ہے اور پھر Who is Who? کے بعد یہ لوگ نارمل ہو جاتے ہیں اور پھر غیبت شروع ہو جاتی ہے۔
”یاد ہے اس (سینئیر آفیسرز) نے میرے ساتھ یہ کیا تو میں نے منہ توڑ جواب دیا“۔ وغیرہ وغیرہ،
عورتوں کا حافظہ کمزور ہوتا ہے۔لہذا وہ اس سٹیشن پر کی جانے والی شاپنگ کی باتیں کرتی ہیں۔ 
ہم بیگمات نے، اپنے اپنے شوہروں کو لنگر گپ لگانے کے لئے چھوڑ دیا اور خود بچوں کے مقابلے شروع کرا دئے۔کیپٹن ایجوٹنٹ صاحب کی مسز کو اتفاق رائے سے جج بنادیا۔ مجھے معلوم تھا کہ عروضہ نے کسی کو نکلنے نہیں دینا چنانچہ میں نے۔قانون بنایا کہ جو بچہ ایک دفعہ فرسٹ۔ سیکنڈ اور تھرڈ آیا اسے اگلے مقابلے میں انعام نہیں ملے گا۔ چنانچہ سارے بچے انعام لیتے رہے۔ والد صاحبان بھی باتیں ختم ہونے کے بعد بچوں کا مقابلہ دیکھنے لگے۔ جب ایک راونڈ ختم ہو گیا تو، ہم نے چلنے کا پروگرام بنایا۔وہاں کے بچوں نے شور مچا دیا نہیں اور کھیلیں گے۔ مائیں کہیں صبح سکول جانا ہے ساڑھے دس ہو گئے ہیں۔ تم لوگ نہیں اٹھو گے۔
شنکیاری چونکہ سرد علاقہ ہے وہاں سردیوں میں ڈھائی مہینے کی چھٹیاں ہوتی ہیں۔ گرمیوں کی پندرہ دن کی چھٹیاں ہو گئی تھیں اور آج پہلا دن تھا۔ چنانچہ بچوں نے کہا آج بہت کم بچے آئے تھے کل بھی کم آئیں گے۔لہذا ہم کل کی چھٹی کریں گے۔ بات معقول تھی کیوں کہ میجر منیر  کے بچے بھی آج ایبٹ آباد سکول نہیں گئے،چنانچہ مقابلے کا دوسرا راونڈ شروع، بچوں کی جھجک دور ہو گئی تھی لہذا اس دوسرے راونڈ میں سائرہ نے اور عروضہ نے حصہ نہیں لیا۔ باقی بچوں نے پہلی اور دوسری پوزیشن کے لئے سخت مقابلہ کیا چنانچہ دو دو بچے پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن لیتے رہے۔  پھر گھرانوں کی ٹیم بنی اور  ان کے درمیان مقابلہ شروع ہو جو نیلام گھر طرز کا تھا۔ بہت سارے کاغذ پر سوالات لکھ کر ایک ڈونگے میں ڈال دئے۔ جس کا جو سوال ہوتا وہ جواب دیتا۔ سوال بھی دلچسپ تھے۔ مثلاً،
اپنی دادی کے شوہر کا نام بتاؤ، یا
آپ کے ابو کی دلہن کا کیا نام ہے۔
نانا کی بیٹی کے بیٹے یا بیٹی کا کیا نام ہے۔
ایک منٹ میں جواب دینا ہوتا تھا۔
کل پانچ ٹیمیں تھیں۔ہر ٹیم سے تین سوال پوچھے گئے۔ اب چونکہ میرے بچے ان مقابلوں کے ماہر تھے لہذا، ان کی ٹیم فرسٹ آگئی۔ پندرہ  سوال کے بعد پہلی آنے والی ٹیم کو مقابلے میں حصہ لینے نہیں دیا جاتا، چنانچہ دوسرے مقابلے کے لئے نئے پندرہ سوال رکھے گئے۔ جو باقی رہ جانے والی دو ٹیموں سے پوچھے گئے۔ میجر اکبر کے بچے، ہر مقابلے میں کمزور رہے۔ بارہ بجے مقابلے ختم ہو ئے۔ اب چلنے کی تیاری کرنے کا پروگرام بنا رہے لیکن میجر اکبر نے زبردستی دوبار گرین چائے کی آفر دے دی۔ چائے کے دوران،
میجر  اکبر نے نعیم سے پوچھا کہ آپ کے بچے پڑھائی میں بھی ذہین ہیں اور باقی چیزوں میں بھی، جب کہ ہمارے بچے بھی آرمی پبلک سکول ہی میں پڑھ رہے ہیں۔ نعیم نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ، "یہ ان کی وجہ سے ہے۔ آج جس قسم کے ہم نے مقابلے کروائے ہیں۔ ہر بچوں کی Gatheringمیں یہ مقابلے ہوتے ہیں۔ بچے سکول میں بھی کوئی مقابلہ نہیں چھوڑتے۔ لہذاان مقابلوں سے ایک توبچوں کی ذہنی آزمائش ہوتی ہے۔ان کی دیگر بچوں کے سامنے جھجک دور ہوتی ہو اور پھر ذخیرہء الفاظ کا اضافہ ہوتا ہے"۔
چنانچہ ان تینوں فیملیز نے میجر ریاض کے رائے دینے پر کہ ہر ہفتے ون ڈش پارٹی ہو گی۔ اور صرف اپنی ہی فیملی کے لئے کھانا بنا کر سب کسی نہ کسی کے گھر جمع ہو کر اکٹھے ہو کر کھائیں گے۔ 
مجھے اچھی طرح یاد ہے، کہ نعیم کی ریٹائر منٹ کے بعد جب  ہم اسلام آباد آئے تو غالبا 2003میں، طاہر محمود صاحب  اپنی فیملی کے ساتھ ہمارے گھر آئے۔ ان کے تین بچے تھے۔ نعیم نے  کھانے کے بعد  بچوں سے کہا کوئی نظم، یا کچھ سنائیں۔ بچے جھجک رہے تھے لیکن پھر اُن کی سب سے چھوٹی بیٹی ”طربہ“  نے ”شاہِ مدینہ“ سنائی۔ باقی بیٹا اور بیٹی نے کافی اصرار کے باوجود کچھ نہ سنایا۔ جس پر سائرہ نے کہا،
"انکل پپا کی یہ عادت ہے۔جو اب تک ہے جس سے ہم تنگ آتے ہیں"۔
نعیم ہنس پڑے اور کہا، ”جب وقت آئے گا تو پوچھوں گا“۔
وقت گزرتا گیا۔  طاہر بھائی کو نعیم کا آئیڈیا پسند آیا۔ ان کے بچے ماشاء اللہ سکول میں مختلف مقابلوں میں حصہ لینے لگے۔ ان کی ایک اور بیٹی ہوئی ”طالیہ“ جب وہ دوسال کی ہوئی اور جب بھی ہمارے گھر آتی تو نعیم اس کی توتلی زبان میں ”شاہ مدینہ، یثرب کے والی“  بس یہ لائین ضرور سنتے۔
سائرہ کی شادی ہوئی۔ جب اس کی بیٹی ”عالی“ نے پہلی بار ”ماما“ بولنا سیکھا تو وہ اُ س نے خوشی خوشی مجھے بتایا۔ ہم دونوں اس کے گھر گئے۔
وہ باربار بولے،”عالی۔ بولو ماما“۔
جواب میں عالی”ماما“کہے۔  ہم سب خوش ہوں۔ باربار، ماما کہلوانے عالی تنگ آگئی اور رونے لگی۔
نعیم بولے، ”ڈولی جب یہ بڑی ہوگی تو کہے گی کہ میں اپنی ماما کی اس عادت سے سخت تنگ ہوں۔ سب کے سامنے مجھے بولنے کا کہتی ہیں“۔
 سائرہ بولی ُ’پپا آپ کو یاد ہے“ ِ
نعیم ہنسے اور کہا، ”بچو جی مجھے تمھاری پیدائش سے لے کر اب تک کی تمھاری ساری باتیں یاد ہیں۔خیر تاریخ اپنے آپ کو دھراتی ہے“۔
 اب ”عالی“ سے ہر مہمان کے سامنے اور گھر میں، بابا بلیک شیپ، ٹوئینکل ٹوئینکل، لکڑی کی کاٹھی، اے فار ایپل اور ہر چیز جو سائرۂ اسے سکھاتی وہ سنوائی جاتی ہے۔ حالانکہ وہ ابھی ڈھائی سال کی ہے اور ہم دونوں ”عالی“ میں سائرہ کا بچپن دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔
دوسرے دن ہم تینوں فیملیز، شنکیاری میں وہ ہوٹل دیکھنے گئے۔ جہاں ہم دونوں خاندان، دس ستمبر سے انتیس اکتوبر تک ٹہرے تھے۔ ہوٹل کے مالک اورنگ زیب صاحب، وہاں آئے ہوئے تھے۔ اوپر کاحصہ اب بھی بند تھا۔ ایک کمرے میں چوکیدار سوتا تھا اور باقی دو کمروں کو انہوں نے اپنے استعمال کے لئے گیسٹ روم بنایا ہوا تھا۔ جس کمرے میں میں ٹہری تھی۔ اسے دیکھ کر پرانی یادیں، ایک لمحے میں واپس لوٹ آئیں۔ وہاں سے پھر ہم اورنگزیب بھائی کے گھر گئے ان کی والدہ، بہنوں، بچوں سے ملے دوپہرکا کھانا کھایا۔انہوں نے بہت اصرار کیا کہ رات ٹہرجائیں۔بمشکل ہم اجازت لے کر واپس ہوئے شام پانچ بجے ایبٹ آباد پہنچے۔ رات کو نعیم کے دوست کرنل جاوید کے ہاں کھانا کھایا اور صبح ہم اٹک کے لئے نکلنے سے پہلے،
نعیم کے بچپن کے گھر کو دیکھنے گئے۔ جہاں انہوں نے بچوں کو اپنے دونوں گھر، گلزار خالہ کا گھر، جس نالی میں وہ اڑتے ہوئے گرے تھے وہ اور مختلف واقعات بھی بتائے۔ جو میں ”فوجی کی بیوی“ میں تفصیل سے درج کروں گی۔ 
ایبٹ آباد سے نکلتے ہوئے، بارہ بج گئے۔ شہر سے کوئی بانچ میں دور،  تربیلہ ڈیم کی تازہ مچھلی کا بورڈ دیکھ کر نعیم نے گاڑی روک دی۔ ہن چارپائیوں پر بیٹھ گئے۔ آدھے گھنٹے کے بعد، مچھلی اور نان نے وہ لطف دیا کہ بتا نہیں سکتی۔ اس کے بعد جب بھی ہم ایبٹ آباد جاتے واپسی پر مچھلی لازماً کھاتے۔ تین بجے ہم اٹک کے لئے روانہ ہوئے اور شام چھ بجے واہ گارڈن دیکھنے کے بعد، انیس دن کی تفریح کر کے ہم واپس اٹک آگئے، گھر پہنچے تو ہماری گاڑی کا مخصوص ہارن سنتے ہی، بلٹ اور شیرا نے بھونک بھونک کر گھر سر پر اٹھا یا، بطخوں نے ایک ساتھ مل کر قیں قیں شروع کر دی، شور  سن کر پڑوسی میجر نیازی باہر آئے کہ کیا معاملہ ہے؟ ہمیں دیکھ کر، نعیم کو ملنے کے بعد کہنے لگے،
”حیرت ہے انہیں کیسے معلوم ہوا کہ آپ آگئے ہیں؟“

٭٭٭٭٭٭٭٭
پچھلا مضمون ۔ ۔ہونہار برِوا -5 ٭٭ ٭٭  اگلا مضمون ۔ ۔ ہونہار برِوا -7 - زیرِطباعت
  ٭٭٭٭٭٭٭٭




کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔