میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 6 اپریل، 2015

شوہر کا شکوہ



کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوں
زن مریدی ہی کروں میں اور مدہوش رہوں

طعنے بیگم کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوں
ہم نوا میں کوئی بزدل ہوں کہ خاموش رہوں


جرات آموز مری تاب ِسخن ہے مجھ کو
شکوہ اک زوجہ سے ! خاکم بدہن ہے مجھ کو


تجھ کو معلوم ہے، لیتا تھا کوئی رشتہ ترا
سر پٹختے ہوئے، پھرتا تھا کبھی اّبا ترا


کس قدر خوش تھا، میں جس دن تیرا ڈولا نکلا
تیرا ڈولا تو مگر، موت کا گولا نکلا

تو جو سوتی ہے، تو سالن بھی پکاتا ہوں میں
ٹیپو روتا ہے تو، فیڈر بھی بناتا ہوں میں

گڈی جاگے ہے، تو جھولا بھی جھلاتا ہوں میں
پّپو اٹھ بیٹھے جو، راتوں کو کھلاتا ہوں میں



پھر بھی مجھ سے یہ گلا ہے، کہ وفادار نہیں
میں وفادار نہیں، تو بھی تو دلدار نہیں

ھےبجا حلقہ ازواج، میں مشہور ھوں میں
تیرا بیرا،تیرا دھوبی،تیرا مزدور ہوں میں

زن مریدی کا شرف، پاکے بھی رنجور ھوں میں
قصہ درد سناتا ھوں، کہ مجبور ھوں میں


میری مخدومہ میرے، غم کی حکایت سن لے
ناز بردار سے، تھوڑی سی شکایت سن لے


زچہ بن بن کے، بجٹ میرا گھٹایا تو نے
ھر نۓ سال، نیا گل ھے کھلایا تو نے


رشتہ داروں نے تیرے ، جان میری کھائی ھے
فوج کی فوج میرے گھرمیں جو در آئی ھے

کوئی ماموں ، کوئی خالو ، کوئی بھائی ھے
بات کہنے کی نہیں، تو بھی تو ھرجائی ھے

کیسے غربت میں ، میں پالوں تیرے غمخواروں کو
ان ممولوں کو سنبھالوں، یا چڑی ماروں کو

میں وہ شوھر ھو،ں کہ خود آگ جلائی جس نے
لا کے بستر پہ تجھے، چاۓ پلائی کس نے

تو ھی کہہ دے، تیرا حسن نکھارا کس نے
اس بلیک آؤٹ سے، مکھڑے کو سنوارا کس نے


کون تیرے لۓ، درزی سے غرارا لایا
واسطہ دے کے، غریبی کا خدارا لایا

پھر بھی مجھ سے، گِلا کہ کماتا کم ھوں
لے کے شاپنگ کے لۓ، تجھ کو  میں جاتا کم ھوں

نوجوانی میں تجھے، عیش کراتا کم ھوں
اور پلازا میں تجھے فلم، دکھاتا کم ھوں


کاش نوٹوں سے، حکومت میری جیبیں بھر دے
مشکلیں شوھرِ مظلوم کی، آسان کر دے


محفلِ شعرو سخن میں، تو چمک جاتا ھوں میں

تیری سرکار میں پہنچوں، تو دُبک جاتا ھوں میں 

تو جو بلغم بھی کھنگارے، تو ٹھٹک جاتا ھوں میں
گھور کر دیکھے تو، پیچھے کو سرک جاتا ھوں میں 


پھر بھی مجھ سے یہ گلا ھے،کہ وفادار نہیں
توھے بیکار، تیرے پاس کوئ کار نہیں

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 آگے پڑھئیے


بیوی کا جوابِ شکوہ


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔