میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

بدھ، 8 اپریل، 2015

اقبال- زندگانی سوختن با ساختن

صاحب سرمایہ از نسل خلیل
یعنی آن پیغمبری بی جبرئیل
زانکہ حق در باطل او مضمر است
قلب او مؤمن دماغش کافر است
غربیان گم کردہ اند افلاک را
در شکم جویند جان پاک را
رنگ و بو از تن نگیرد جان پاک
جز بہ تن کاری ندارد اشتراک
دین آن پیغمبری حق ناشناس
بر مساوات شکم دارد اساس
تا اخوت را مقام اندر دل است
بیخ او در دل نہ در آب و گل است

ہم ملوکیت بدن را فربہی است
سینہ
ٔ بی نور او از دل تہی است
مثل زنبوری کہ بر گل میچرد
برگ را بگذارد و شہدش برد
شاخ و برگ و رنگ و بوی گل ہمان
بر جمالش نالہ
ٔ بلبل ہمان
از طلسم رنگ و بوی او گذر
ترک صورت گوی و در معنی نگر
مرگ باطن گرچہ دیدن مشکل است
گل مخوان او را کہ در معنی گل است

ہر دو را جان ناصبور و ناشکیب
ہر دو یزدان ناشناس آدم فریب
زندگی این را خروج آن را خراج
در میان این دو سنگ آدم زجاج
این بہ علم و دین و فن آرد شکست
آن برد جان را ز تن نان را ز دست
غرق دیدم ہر دو را در آب و گل
ہر دو را تن روشن و تاریک دل
زندگانی سوختن با ساختن
در گلی تخم دلی انداختن

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔