میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

ہفتہ، 25 اپریل، 2015

ٹرین سٹیشن سے نکل گئی

آہ میرا بے چارہ لیپ ٹاپ کا کی بورڈ ۔
'
پہل برفی (پوتی) نے اِس کی بھوک مٹاتے ہوئے دودھ پلایا ۔ اور اب کل رات چم چم (نواسی) نے ، اس کی پیاس بجھائی اور پانی پلا دیا ۔
'
وہ تو شکر ہے کہ میں نے اسے فوراً بند کر دیا ۔ لہذا صر ف لفظ "ن" کی قربانی دینا پڑی ۔ اور اب "ن" پیسٹ کر کے کام چلا رہا ہوں ،

لڈو ، نے صرف ایکسٹرنل ماؤس ، کو چمکتی چیز پکڑ کر کھینچ لیا اور برفی کو دے دیا وہ اُسے سارے گھر میں گھسیٹتی پھری۔

لڈو تو کل ایرپورٹ پر ھاتھ ھلا بائے بائے کر کے ماں اور باپ کے ساتھ دوبئی چلا گیا ۔

اور برفی اپنی ماما کے ساتھ نانا کے گھر اور رہی چم چم ، صبح وہ چی
نی صدر کی وجہ سے بند ہونے والے سکول گئی ، کیوں کہ  اُس کا دو دن کی پڑھائی کا نقصان ہوگیا ہے۔
 شائد وہ شام کو ویک اینڈ آئے، کیوں کہ ایک شادی پر جانا ۔

اِس وقت گھر پر بس بوڑھا اور بڑھیا اکیلے ہیں۔

بڑھیا تو شائد سو رکعت نماز کی نیت باندھے بیٹھی ہے ۔

اور بوڑھا صبح ناشتہ کر کے سو گیا ۔ ایک بجے اُٹھ کر اب لیپ ٹاپ لے کر بیٹھا ہے ۔


بڑھیا جب فارغ ہوگی تو کھانا دے گی ۔
چم چم ، لڈو اور بعفی کے جانے کے بعد سنسان گھر میں مجھے یوں لگ رھا ہے جیسے ٹرین سٹیشن سے نکل گئی ۔






کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔