میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 26 اپریل، 2015

خواتین کی تکنیکی خوبیاں


خواتین کی یہ تکنیکی خوبیاں کسی دل جلے نے ہمیں ، وٹس ایپ کیں ، تو ہم نے انہیں فیس بُک کردیا ۔ جس کے جواب میں دوستوں کے قہقہے بھی ملے اور صاحب دانش و بینش سے داد بھی ملی ۔

Technically, there are 7 TYPES OF LADIES-
1.HARD DISK lady: Remembers everything forever
2. RAM lady: Forgets about you the moment you turn off.
3. SCREENSAVER lady: just for looking
4. INTERNET lady: Difficult to access
5. SERVER lady: Always busy when needed
6. MULTIMEDIA lady: Looks beautiful but u can only look.
7. VIRUS lady: This type of lady is normally called 'WIFE', once enters your system, never leaves till the system is formatted.



اپنے بچپن کے " ہم غم دوست " نے جملہ کسسا ، 
" زبردست آپ کے پاس کون سے قسم کا سامان ہے؟ "
 
 دن کے گیارہ بجنے والے ہیں پورے گھر پر سکوت ہے ، چم چم اپنی ماں کے ساتھ ویک اینڈ گذار کر ، صبح صبح سکول جا چکی ہے ، شاید دیر سے اُٹھی لہذا مجھ پر پانی ڈال کر اُٹھانے کو موقع نہیں ملا ، چنانچہ میں خود ہی اُٹھ گیا وہ پیار کرکے  اگلے ویک اینڈ پر آنے کا وعدہ کرکے چلی گی ۔ ہم پھر سو گئے کوئی دس بجے بارش کی دھما چوکڑی سے آنکھ کھلی ، 
 ناشتے کے لئے ، بیٹھے تو موبائل اُٹھا لیا، وہاں بشیر احمد کورائی بلوچ کا ،کسا ہوا جملہ نظر آیا جس کا جواب ، موبائل پر دو لائینوں میں تو دیا نہیں جاسکتا تھا ۔ لہذا پاس پڑے ہوئے لیپ ٹاپ کو آن کر لیا ۔ ابھی پاس ورڈ لکھنا شروع کیا کہ ، اچانک بارش کے ساتھ ایک مانوس گھن گرج گونجی ،
" یہ کیا صبح صبح لیپ ٹاپ لے کر بیٹھ گئے ؟"
" غضب خدا کا رات لیپ ٹاپ ، صبح لیپ ٹاپ ، دوپہر لیپ ٹاپ ، شام لیپ ٹاپ "
"نصف بہتر" نے ناشتہ پاس پڑی ہوئی میز پر کھتے ہوئے کہا

دروغ گوئی کی حد ہتی ہے بیوی ،" کبھی دس بجے کو کہتی ہو کہ دوپہر تک سوتے رہتے ہیں اور میں اکیلی پورے گھر میں بور ہوتی ہوں ، اور آج دس بجے کو ، صبح صبح میں شامل کر دیا  اور اگر ایک گھنٹہ اور سوتا تو کہتیں ابھی اُٹھنے کی کیا ضرورت ، آنے والی صبح کو ہی اُٹھ جاتے "
  اور دوستو اگر بارہ بج جائیں ، تو "نصف بہتر" بار بار آکر سنتی ہیں کہ "بڈھا " سانس لے رہا ہے یا   مکمل "مراقبے" میں چلا گیا ۔

اپنے بشیر جی : ذرا پوری خصوصیات کو غور سے پڑھیں ، تو شاید آپ کو بھی اپنا " آدھا بہتر " ان تمام خوبیوں کے ساتھ ہمہ صفت نظر آئیں گی ۔ ویسے ہماری "نصف بہتر":-
٭- پہلی خوبی بھی رکھتی ہیں ، ویسے تو بھول جانے کا دعویٰ کرتی ہیں لیکن جب باتیں یاد کراتی ہیں ، تو یہ آئی بی ایم  کی وہ ہارڈ ڈسک بن جاتی ہیں جس کی 5 ایم بی ، یاداشت ضرب المثل ہے  
٭- زمانہ حال جاریہ  کے ہمارے تمام احسانات فوراً مٹا دیتی ہی، ایسے جیسے ہم بچپن میں تختی کو دھو کر اُس پر گاچی لگادیتے تھے ۔
٭ - بس اب تو ہم انہیں گھر میں چلتا پھرتا دیکھتے ہیں ۔ ھاتھ لگانے کی ہمت نہیں ہوتی کہ کب جھٹکا لگے ۔ 
٭ - اگر میں پی ٹی سی ایل کے سپر براڈ بینڈ انٹر نیٹ سے مشابہت دوں ، تو اس کے لئے آپ کو یہ نیٹ لگوانا پڑے کا اور  کنکشن نہ لگنے کے لئے آپ کو"18" دبا کر ، چپ چاپ سننا پڑے گا ۔
٭ اِس خوبی کے بارے میں تو آپ خود سمجھدار ہیں اب بچوں کے سامنے کیا بتاؤں ۔
٭- جب گھر میں رھتی ہیں تو یہ خوبی بدرجہ اتم موجود رہتی ہے ۔ لیکن جب ہمیں کبھی "سنیٹورس مال" لے کر جاتی ہیں تو کہتی ہیں ، کہ آپ کے دیدے اتنے زیادہ گول گول کیوں گھومنے لگتے ہیں ؟ اب راز کی بات کیا بتائیں کہ شرعی لحاظ ، ہم فتاویٰ عالمگیری کے باب الحیل کے قائل نہیں ، کہ جسے بھی دیکھو ایک بار دیکھو اور وہ بھی ٹکٹکی باندھ کر کیوں کی دوسری نظر قابلِ گرفت ہوجاتی ہے ۔
  ،٭- اب اس ھفتے کی بات ہے ، کہ ایک شادی پر چم چم کے ساتھ گئے ، تو ھال میں ایک ھم عمر دوست سے ملاقات ہوگئی  ان کے ساتھ ایک چھ سالہ بچی تھی ، اپنی چم چم کا اُس بچی سے تعارف کروایا ، اور دونوں ہمارا ھاتھ چھڑا دوست بن کر ، خواتین کے حصے کی طرف دوڑ گئیں ،
دوست سے پوچھا ، " پوتی یا نواسی
فرمایا ، " بیٹی" ۔
ہمارے منہ سے بے ساختہ نکلا ، " آپ کی مشین ابھی تک کام کر رہی ہے ۔"
رات کو جب واپس ہوئے ، تو معلوم ہوا کہ دوست نے ، پرانی 5 ایم بی کی ڈسک کو فارمیٹ کرونے کے بجائے ، 1000 گیگا بائیٹ  کی نئی ھارڈ دسک ڈلوا لی ہے ۔


کیا سمجھے اپنے " بلوچ " صاحب ، میری تو مجبوری ہے ۔ لیکن آپ کی کیا مجبوری ہے ؟ 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔