میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 28 اپریل، 2015

کون سا قدم اُٹھانا ہے ؟


فیس بک میں شامل ہونے سے، غالباً اُس دور کی بات ہے کہ ہم وی سی آر پر ہر روز ایک فلم دیکھا کرتے تھے ،  کہ ایک فلم میں  انڈیا کے ہر دل عزیز فلمی ھیرو نے اپنے ہم شکل بیٹے کے ہاتھ پر چھ لکھا ، اور گویا ہوا ،
" تمھاری طرف سے یہ " 9 " ہے اور میری طرف سے " 6 " ، تم اپنی جگہ ٹھیک ہو اور میں اپنی جگہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  "
پھر یہ تصویر " فیس بُک" ہوتی رہی ۔ ہم بھی اِسے لائیک کرتے اور یا شیئر کرتے ۔ آج بھی یہ ایک مذھبی فورم پر نمودار ہوئی اور مجھے ٹیگ کر دی گئی ۔

میں صبح صبح ، ابنا قبلہ درست کرتا ہوں اور پھر وقت ہو تو ، " فیس بک " کو دیکھتا ہوں ۔ جو نہی یہ تصویر میرے سامنے آئی ۔ میں بس اسے لائیک کر کے ، آگے جانے والا تھا ، کہ اِس کے اوپر لکھے ہوئے الفاظ نے مجھے چونکا دیا ۔
' ایک ہی وقت میں قریقین درست ہو سکتے ہیں " 
اور میرے سامنے گذشتہ روز کا منظر فلیش بیک ہوا ۔
میں کل تین بجے ، تمام کاموں سے فارغ ہو کر بستر پر " قیلولہ " کرنے کے لئے لیٹا ، سر میں سخت درد تھا ،کیوں کہ فجر کے بعد سویا تھا ۔ پھر، آٹھ بجے کے بعد سونا نصیب نہیں ہوا ۔ فون بند کرنے کے لئے ہاتھ بڑھایا ، کہ گھنٹی بجنے لگی ، دیکھا تو نورانی بھائی کا فون تھا ، سلام نے بعد ، بولے " ھاں کیا کر رہے ہو ؟ سو تو نہیں گئے تھے "
 " جی نہیں بس تیاری کر رہاتھا " میں نے جواب دیا ۔
" میں یہاں آیا ہوا ہوں ۔ آجاؤ " حکم دیا
" جی بس پانچ منٹ تک آتا ہوں ۔ " میں نے جواب دیا
" اور ھاں ، آپ کادوست بھی آیا ہوا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ طارق " وہ بوے ۔
" بس سمجھو پہنچ گیا " میں نے بستر سے اٹھتے ہوئے کہا ۔
پھر شام چار سے سات بجے تک ، نورانی بھائی اور طارق نے میرے گھر بیٹھ کر مجھے " گرائمر کے سمندر میں زبردست غوطے دیئے "

آج فیس بک آن کرتے ہی ، جماعت اسلامی کے مہربانوں کی اپنی مطلب کے تراجم کے ساتھ پوسٹ سے ٹھوکر لگی ۔ 


اب ، آیئے پوسٹ کے الفاظ پر :ـ
' ایک ہی وقت میں قریقین درست ہو سکتے ہیں "
 جس کا جواب یں نے یہ لکھا :-
دائیں والے کو تین قدم پیچھے آنا پڑے گا ۔ یا

بائیں والے کو تین قدم آﷺگے بڑھنا پڑؑے گا ۔
اختلاف دور کرنے کا بس یہی ایک طریقہ ہے !

آپ سوچیں کون سا قدم اٹھائیں گے ؟

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔