میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 29 اپریل، 2015

عباس ابو القاسم ابن فرناس ابن ورداس التکورانی

ابن فرناس جن کا پورا نام عباس قاسم ابن فرناس تھا۔ جو فلکیات اور شاعری کا ماہر تھا ۔ اِس کا لاطینی نام " ارمن فرمن " تھا ۔ 822 میں جب خلیفہ عبدالرحمان دوئم نے اپنی سلطنت کے تمام ، ذہین لوگوں کو قرطبہ میں اکھٹا کیا تو اِن میں ایک موسیقار زریاب بھی تھا ۔ ذریاب نے چادرکے پر بنا کر اُڑنے کی کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہ ہوا مگر ، پیرا شوٹ کا تصور نیا کو دے یا ، اس موقع پر ابنِ فرناس بھی موجود تھا جس نے زریاب کی تحقیق کو آگے بڑھایا ۔
 

(ابن فرناس کی خیالی تصویر)


عباس ابو القاسم ابن فرناس ابن ورداس التکورانی، اندلس کے شہر اذن ۔ رند ۔ اوندا میں 810 ء میں پیدا ہوا  ۔ عباس ابن فرناس بربرنژاد اور جنوبی اسپین کے ضلع تکرنہ کا باشندہ تھا۔ اس نے اپنی تمام عمر قرطبہ میں بسر کی اور اپنے علم و حکمت کی بنا پر اُس زمانے کا عظیم سائنسدان کہلایا ۔ اس کی ایجادات اور اختراعات بے شمار ہیں اور اگر اسے اپنے زمانے کا نابغہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا ۔

علم ریاضی جس نے 5000 قبل مسیح ہندوستان میں انسانی زندگی میں دخل دیا ۔ ابن فرناس میں اُس میں مہارت حاصل کی ۔
وہ ریاضی ، شاعری ، سائینس ، اور گنجلک مسائل کے حل میں یگانہ تھا ۔ اس نےساعتِ ماپنے کے لئے آبی گھڑی ایجاد کی ، کرسٹل بنانے کا فارمولا بنایا اور تو اور اپنی تجربہ گاہ میں اس نے انعکاس نما اور کلوں کی مدد سے ایک ایسا پلانیٹوریم بنایا جس میں بیٹھ کر نجوم ، بادلوں کی اُڑان اور ان کی گھن گرج وچمک کے مظاہردیکھتے تھے ۔



اس کی ریاضی میں مہارت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے ایک دفعہ ایک تاجر ہندوستان کے سفر سے واپسی ایک کتاب اپنے ساتھ لایا ۔ جو عالم، شاعر اور لسانیات کا ماہر تھا اور آٹھویں صدی میں بغداد میں آیا تھا ۔ اس نے عربی کی پہلی لغت تیارکی تھی  ۔ کہا جاتا ہے کہ شاعری میں علم عروض اورحسابی تقطیع کی بنیاد کلیل نے ڈالی تھی ۔ یہ کتاب اندلس میں نئی پہنچی تھی اور اس کے مندرجات سے کسی کو واقف نہ تھی اور تشریح بھی آسان نہ تھی، لہذا یہ کتاب ابن فرناس کو دی گئی ۔ اُس نے اس کتاب کی ہندسی ترتیب اور مفہوم وضاحت سے بیان کر کے حاضرین کو ششدرکر دیا ۔




تاریخ میں پہلی انسانی پرواز ، اس کا سب سے بڑا کارنامہ ہے ۔ وہ گھنٹوں پرندوں کو محو پرواز دیکھ کر انہیں کی طرح اڑنے کا خواہشمند تھا ۔ اس نے پرندوں کی پرواز کی تکنیک کا بغور مطالعہ کیا اور اعلان کیا کہ انسان کے لئے بھی پرندوں کی طرح اڑنا ممکن ہے ۔ اوراپنی تھیوری کا عملی مظاہرہ کیا ۔

Abbas Ibn Firnas - old image
(ابن فرناس کی اُڑان کی خیالی تصویر)

اس نے پرندوں کی مانند پر پرندوں کے جسم اور پروں کی جسامت کی نسبت سے اپنے جسم کے ہم وزن فریم تیارکیا اور اسے ریشمی کپڑے سے منڈھ دیا ۔ پھر  امیر عبد الرحمن الداخل کے بنائے ہوئے محل رصافہ کے اوپر برج پر چڑھ گیا اور دونوں پر اپنے جسم کے ساتھ باندھ کر چھلانگ لگادی  ۔ تماشائی بڑی حیرت اور تعجب سے اسے تیر کر زمین کی طرف آتا دیکھتے رہے وہ محل  سے کچھ فاصلے پر میدان میں اتر گیا  وہ انسانی تاریخ کا ہوا میں پہلا اڑنے والا انسان کہلایا ۔

گو کہ زمین پر ہموار نہ اترنے کی وجہ سے وہ ایک عرصہ صاحب فراش رہا ۔ مگر وہ کچھ مدت بعد اپنی اس معذوری اور بڑھاپے کے باوجود چلنے پھرنے کے قابل ہو گیا ۔


اپنے فارغ وقت میں وہ اکثر غور کرتا کہ آخر پرواز کرنے والے سوٹ میں کیا خرابی تھی جس کی وجہ سے اسے چوٹ کا صدمہ اٹھانا پڑا ۔
تقریبا 1010ء میں ایک یورپی "راہب ایلمر مالسمبری" نے بھی عباس ابن فرناس کے مطابق اڑن مشین بنائی ۔ اور اس کے مزید کچھ صدیوں بعد پندرھویں صدی میں "لیونارڈو ڈاؤنچی " میں اس میں اضافہ کیا ۔ 





(بغداد میں ابن فرناس کا مجسمہ)

 نوٹ: یہ تمام معلومات تاریخی ہیں ۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔