میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ, اپریل 8, 2015

مذہب او قاطع ملک و نسب


سینۂ ما از محمد داغ داغ
از دم او کعبہ را گل شد چراغ
از ہلاک قیصر و کسری سرود
نوجوانان را ز دست ما ربود
ساحر و اندر کلامش ساحری است
این دو حرف لاالہ خود کافری است
تا بساط دین آبا در نورد
با خداوندان ما کرد آنچہ کرد
پاش پاش از ضربتش لات و منات
انتقام از وی بگیر ای کائنات
دل بہ غایب بست و از حاضر گسست
نقش حاضر را فسون او شکست
دیدہ بر غایب فرو بستن خطاست
آنچہ اندر دیدہ می ناید کجاست
پیش غایب سجدہ بردن کوری است
دین نو کور است و کوری دوری است
خم شدن پیش خدای بی جہات
بندہ را ذوقی نبخشد این صلوت

مذہب او قاطع ملک و نسب
از قریش و منکر از فضل عرب
در نگاہ او یکے بالا و پست
با غلام خویش بر یک خوان نشست
قدر احرار عرب نشناختہ
با کلفتان حبش در ساختہ
احمران با اسودان آمیختند
آبروے دودمانی ریختند
این مساوات این مواخات اعجمی است
خوب میدانم کہ سلمان مزدکی است
ابن عبداﷲ فریبش خوردہ است
رستخیزی بر عرب آوردہ است
عترت ہاشم ز خود مہجور گشت
از دو رکعت چشم شان بی نور گشت
اعجمی را اصل عدنانی کجاست
گنگ را گفتار سحبانی کجاست
چشم خاصان عرب گردیدہ کور
بر نیائی ای زھیر از خاک گور
ای تو ما را اندرین صحرا دلیل
بشکن افسون نوای جبرئیل

باز گوی ای سنگ اسود باز گوی
آنچہ دیدیم از محمد باز گوی
ای ہبل ، ای بندہ را پوزش پذیر
خانۂ خود را ز بی کیشان بگیر
گلۂ شان را بہ گرگان کن سبیل
تلخ کن خرمایشان را بر نخیل
صرصری دہ با ہواے بادیہ
’’انھم اعجاز نخل خاویہ‘‘
ای منات ای لات ازین منزل مرو
گر ز منزل میروی از دل مرو
ای ترا اندر دو چشم ما وثاق
مہلتی ، ان کنت ازمعت الفراق

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔