میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 8 اپریل، 2015

نغمہ توحید را دیگر سرای


برق بیتابانہ رخشید اندر آب
موجہا بالید و غلطید اندر آب
بوی خوش از گلشن جنت رسید
روح آن درویش مصر آمد پدید
در صدف از سوز او گوہر گداخت
سنگ اندر سینہ کشنر گداخت
گفت ’’ای کشنر اگر داری نظر
انتقام خاک درویشی نگر
آسمان خاک ترا گوری نداد
مرقدی جز در یم شوری نداد
باز حرف اندر گلوی او شکست
از لبش آہی جگر تابی گسست‘‘
گفت ’’ای روح عرب بیدار شو
چون نیاکان خالق اعصار شو
ای فواد ای فیصل ای ابن سعود
تا کجا بر خویش پیچیدن چو دود
زندہ کن در سینہ آن سوزی کہ رفت
در جہان باز آور آن روزی کہ رفت
خاک بطحا خالدے دیگر بزای
نغمہ توحید را دیگر سرای
ای نخیل دشت تو بالندہ تر
بر نخیزد از تو فاروقی دگر
ای جہان مؤمنان مشک فام
از تو می آید مرا بوے دوام
زندگانی تا کجا بی ذوق سیر
تا کجا تقدیر تو در دست غیر
بر مقام خود نیائی تا بہ کی
استخوانم در یمی نالد چو نی
از بلا ترسی حدیث مصطفی است
’’مرد را روز بلا روز صفاست‘‘
ساربان یاران بہ یثرب ما بہ نجد
آن حدی کو ناقہ را آرد بوجد
ابر بارید از زمین ہا سبزہ رست
می شود شاید کہ پای ناقہ سست
جانم از درد جدائی در نفیر
آن رہی کو سبزہ کم دارد بگیر
ناقہ مست سبزہ و من مست دوست
او بدست تست و من در دست دوست
آب را کردند بر صحرا سبیل
بر جبل ہا شستہ اوراق نخیل
آن دو آہو در قفای یکدگر
از فراز تل فرود آید نگر
یک دم آب از چشمۂ صحرا خورد
باز سوی راہ پیما بنگرد
ریگ دشت از نم مثال پرنیان
جادہ بر اشتر نمی آید گران
حلقہ حلقہ چون پر تیہو غمام
ترسم از باران کہ دوریم از مقام
ساربان یاران بہ یثرب ما بہ نجد
آن حدی کو ناقہ را آرد بوجد

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔