میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

بدھ، 8 اپریل، 2015

اقبال- برقی کہ بخود پیچد میرد بہ سحاب اندر

ترسم کہ تو میرانی زورق بہ سراب اندر
زادی بہ حجاب اندر میری بہ حجاب اندر
چون سرمہ رازی را از دیدہ فروشستم
تقدیر امم دیدم پنھان بکتاب اندر
بر کشت و خیابان پیچ بر کوہ و بیابان پیچ
برقی کہ بخود پیچد میرد بہ سحاب اندر
با مغربیان بودم پر جستم و کم دیدم
مردی کہ مقاماتش ناید بحساب اندر
بی درد جہانگیری آن قرب میسر نیست
گلشن بگریبان کش ای بو بگلاب اندر
ای زاہد ظاہر بین گیرم کہ خودی فانی است
لیکن تو نمی بینی طوفان بہ حباب اندر
این صوت دلاویزی از زخمہ
ٔ مطرب نیست
مہجور جنان حوری نالد بہ رباب اندر

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔