میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 8 اپریل، 2015

تا ابوآلابا فریب او نخورد

پیر مردی ریش او مانند برف
سالہا در علم و حکمت کردہ صرف
تیز بین مانند دانایان غرب
کسوتش چون پیر ترسایان غرب
دیر سال و قامتش بالا چو سرو
طلعتش تابندہ چون ترکان مرو
آشنای رسم و راہ ہر طریق
آشکار از چشم او فکر عمیق
آدمی را دید و چون گل بر شکفت
در زبان طوسی و خیام گفت
’’پیکر گل آن اسیر چند و چون
از مقام تحت و فوق آمد برون
خاک را پرواز بی طیارہ داد
ثابتان را جوہر سیارہ داد‘‘
نطق و ادراکش روان چون آب جو
محو حیرت بودم از گفتار او
این ہمہ خوابست یا افسونگری
بر لب مریخیان حرف دری
گفت ’’بود اندر زمان مصطفی
مردی از مریخیان با صفا
بر جہان چشم جہان بین را گشاد
دل بہ سیر خطہ آدم نہاد
پر گشود اندر فضا ہای وجود
تا بہ صحرای حجاز آمد فرود
آنچہ دید از مشرق و مغرب نوشت
نقش او رنگین تر از باغ بہشت
بودہ ام من ہم بہ ایران و فرنگ
گشتہ ام در ملک نیل و رود گنگ
دیدہ ام امریک و ہم ژاپون و چین
بہر تحقیق فلزات زمین
از شب و روز زمین دارم خبر
کردہ ام اندر بر و بحرش سفر
پیش ما ہنگامہ ہای آدم است
گرچہ او از کار ما نامحرم است
‘‘
رومی
من ز افلاکم رفیق من ز خاک
سر خوش و نا خوردہ از رگہای تاک
مرد بے پروا و نامش زندہ رود
مستی او از تماشای وجود
ما کہ در شہر شما افتاد ایم
در جھان و از جھان آزادہ ایم
در تلاش جلوہ ہای نو بنو
یک زمان ما را رفیق راہ شو
 
حکیم مریخی
این نواح مرغدین برخیاست
بر خیا نام ابوآلابای ماست
فرز مرز ، آن آمر کردار زشت
رفت پیش برخیا اندر بہشت
گفت ’’تو اینجا چسان آسودہ ئی
عمرہا محکوم یزدان بودہ ئی
از مقام تو نکوتر عالمی است
پیش او جنت بہار یکدمی است
آن جہان از ہر جہان بالاتر است
آن جھان از لامکان بالاتر است
نیست یزدان را از آن عالم خبر
من ندیدم عالمے آزاد تر
نی خدائی در نظام او دخیل
نی کتاب و نی رسول و جبرئیل
نی طوافے ، نی سجودی اندرو
نی دعائے نی درودی اندرو‘‘
برخیا گفت’’ ای فسون پرداز خیز،
نقش خود را اندر آن عالم بریز‘‘
تا ابوآلابا فریب او نخورد
حق جہانی دیگری با ما سپرد
اندرین ملک خدا دادی گذر
مرغدین و رسم و آئینش نگر

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔