میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل, اپریل 7, 2015

محبت نامہ !

استانی جی کا اپنے منگیتر کو جوابی خط..
 
مائی ڈئیر تاج الدین،
آپ کا اِملا کی غلطیوں سے بھرپور مراسلہ مِلا، جسے آپ بدقسمتی سے "محٌبت نامہ" کہتے ہیں ۔
کوئی مسٌرت نہیں ہوئی ۔
یہ خط بھی آپ کے پچھلے خطوط کی طرح بے املاء اور صرف و نحو کے اوزان سے مبّرا ، ترتیب ھائے جملہ اور قواعدِ تحریر و اغلاط املا سے یکسر نا آشنا ہے ۔

اگر مزاج شاہانہ پر ناگوار نہ گذرے تو صحیح نہ لکھنے کا جرم کرنے کے بجائے کسی صاحبِ زُبان کی خدمات سے استفادہ کیا کریں۔
خط لقیناً آدھی ملاقات کا سبب ہے ، لیکن یہ آدھی ملاقات بھی پچھلی آدھی ملاقات کی طرح باعث رنج و غم کے دردناک لمحات میں تبدیل ہو جاتی ہے !

اور ہاں.... یہ جو آپ نے میری شان میں قصیدہ لِکھا ہے ،
یہ دراصل قصیدہ نہیں بلکہ ایک فلمی گانا ہے- آپ کے شاید عِلم میں نہ کہ محبت بھرا یہ گانا فِلم میں ہیرو اپنی ماں کے لئے گاتا ہے ۔

اور ھاں! پان کم کھایا کریں، ورنہ ہمارے گھر کی دیواریں سپید ہونے کے بجائے پیک رنگ ہوں گی ۔
خط میں جگہ جگہ پان کے دھبے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ آپ اپنے ھاتھ دھونے میں تساہل سے کام لیتے ہیں جو حفظانِ صحت کے اصولوں کے منافی ہے ۔

اور یہ جو آپ نے ملاقات کی خواھِش کا اظِہار انتہائی اِحمقانہ انداز میں کیا ھے۔
یوں لگتا ہے کہ جیسے کوئی یتیم بچہ اپنی ظالِم سوتیلی ماں سے ٹافی کی فرمائش کر رھا ھو، اس یقین کہ ساتھ کہ وہ اِسے نہیں دےگی۔


یہ "تاجو" کیا ھوتا ہے۔
یوں محسوس ہوتا ہے قصائی یا دودھ والے کی صحبت میں آپ نے اپنے نام کی اعضاء کا برضاو رغبت قتلِ عام کیا ہو !

ہاں مخفٌف لِکھنا ھی ہے تو صِرف "تاج" لِکھواور ھاں "سرتاج " نہ لکھیں ۔ کیوں کہ "سرتاج خان " ہمارے سکول کے دربان کا نامِ نامی ہے ۔ کہیں میری اُس کے نام سے جُڑ کر باعثِ بدنامی نہ ہو -

لہذا آئندہ خط احتیاط سے لِکھیں۔
اُس میں کوئی غلطی نہیں ھونی چاہیے۔
آخر میں آپ نے جو شعر لِکھا ہے.. وہ تو اب رکشہ والوں نے بھی لکھنا چھوڑ دیا ہے!
مجھے خوف ہے کہ آپ کے خطوط کہیں میری اُردوئے معلّہ کو اردوئے محلّہ نہ بنادیں اور مجھے رخصتی سے پہلے سکول سے رخصت نہ کر دیں ۔

جس بچی کو آپ نے ٹافی دینے کا وعدہ کرکے یہ محبت نامہ بھجوایا تھا وہ بسورتی ہوئی میرے پاس آئی ۔ مجھے اُسے ٹافی دینا پڑی ۔ ورنہ وہ یہ وعدہ خلافی جنگل کی آگ کی طرح سکول میں پھیلا دیتی ۔
اور آپ کے نام کے ساتھ وعدہ خلافی کا لاحقہ جڑ کر، زُبانِ ہر خاص و عام ہوجاتا ۔
بس یہی کہنا تھا۔
فقط
تمھاری ........ !!



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔