میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 8 اپریل، 2015

از کلیسا و حرم نالان گریخت


آن ہوای تند و آن شبگون سحاب
برق اندر ظلمتش گم کردہ تاب
قلزمی اندر ہوا آویختہ
چاک دامان و گہر کم ریختہ
ساحلش ناپید و موجش گرم خیز
گرم خیز و با ہواہا کم ستیز
رومی و من اندر آن دریای قیر
چون خیال اندر شبستان ضمیر
او سفر ہا دیدہ و من نو سفر
در دو چشمم ناصبور آمد نظر
ہر زمان گفتم نگاہم نارساست
آن دگر عالم نمی بینم کجاست
تا نشان کوہسار آمد پدید
جویبار و مرغزار آمد پدید
کوہ و صحرا صد بہار اندر کنار
مشکبار آمد نسیم از کوہسار
نغمہ ہای طایران ہم نفس
چشمہ زار و سبزہ ہای نیم رس
تن ز فیض آن ہوا پایندہ تر
جان پاک اندر بدن بینندہ تر
از سر کہ پارہ ئی کردم نظر
خرم آن کوہ و کمر آن دشت و در
وادی خوش بی نشیب و بی فراز
آب خضر آرد بخاک او نیاز
اندرین وادی خدایان کہن
آن خدای مصر و این رب الیمن
آن ز ارباب عرب این از عراق
این الہ الوصل و آن رب الفراق
این ز نسل مہر و داماد قمر
آن بہ زوج مشتری دارد نظر
انم یکی در دست او تیغ دو رو
وان دگر پیچیدہ ماری در گلو
ہر یکی ترسندہ از ذکر جمیل
ہر یکے آزردہ از ضرب خلیل
گفت مردوخ آدم از یزدان گریخت
از کلیسا و حرم نالان گریخت
تا بیفزاید بہ ادراک و نظر
سوی عھد رفتہ باز آید نگر
می برد لذت ز آثار کہن
از تجلی ہای ما دارد سخن
روزگار افسانۂ دیگر گشاد
می وزد زان خاکدان باد مراد
بعل از فرط طرب خوش میسرود
بر خدایان رازہای ما گشود

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔