میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ, اپریل 8, 2015

تذکیر نبیۂ مریخ


ای زنان ای مادران ای خواہران
زیستن تا کی مثال دلبران
دلبری اندر جہان مظلومی است
دلبری محکومی و محرومی است
در دو گیسو شانہ گردانیم ما
مرد را نخچیر خود دانیم ما
مرد صیادی بہ نخچیری کند
گرد تو گردد کہ زنجیری کند
خود گدازیہای او مکر و فریب
درد و داغ و آرزو مکر و فریب
گرچہ آن کافر حرم سازد ترا
مبتلای درد و غم سازد ترا
ہمبر او بودن آزار حیات
وصل او زھر و فراق او نبات
مار پیچان از خم و پیچش گریز
زہرہایش را بخون خود مریز
از امومت زرد روی مادران
ای خنک آزادی بی شوہران
وحی یزدان پی بہ پی آید مرا
لذت ایمان بیفزاید مرا
آمد آن وقتی کہ از اعجاز فن
می توان دیدن جنین اندر بدن
حاصلی برداری از کشت حیات
ہر چہ خواہی از بنین و از بنات
گر نباشد بر مراد ما جنین،
بی محابا کشتن او عین دین
در پس این عصر اعصار دگر
آشکارا گردد اسرار دگر
پرورش گیرد جنین نوع دگر
بی شب ارحام دریابد سحر
تا بمیرد آن سراپا اہرمن
ہمچو حیوانات ایام کہن
لالہ ہا بے داغ و با دامان پاک
بی نیاز از شبنمی خیزد ز خاک
خود بخود بیرون فتد اسرار زیست
نغمہ بی مضراب بخشد تار زیست
آنچہ از نیسان فرو ریزد مگیر
ای صدف در زیر دریا تشنہ میر
خیز و با فطرت بیا اندر ستیز
تا ز پیکار تو حر گردد کنیز
رستن از ربط دو تن توحید زن
حافظ خود باش و بر مردان متن
رومی
مذہب عصر نو آئینی نگر
حاصل تہذیب لادینی نگر
زندگی را شرع و آئین است عشق
اصل تہذیب است دین ، دین است عشق
ظاہر او سوزناک و آتشین
باطن او نور رب العالمین
از تب و تاب درونش علم و فن
از جنون ذوفنونش علم و فن
دین نگردد پختہ بی آداب عشق
دین بگیر از صحبت ارباب عشق

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔