میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 29 اپریل، 2015

واین دفتر بی‌معنی غرق می ناب اولی


این خرقہ کہ من دارم، در دہن شراب اولی
 واین دفتر بی‌معنی، غرق می ناب اولی


چون عمر تبہ کردم، چندان کہ نگہ کردم
در کنج خراباتی، افتاده خراب اولی


چون مصلحت اندیشی، دور است ز درویشی
 ہم سینہ پر از آتش، ہم دیده پرآب اولی


من حالت زاہد را، با خلق نخواہم گفت
این قصہ اگر گویم، با چنگ و رباب اولی


تا بی سر و پا باشد، اوضاع فلک زین دست
در سر ہوس ساقی، در دست شراب اولی


از ہمچو تو دلداری، دل برنکنم آری
چون تاب کشم باری، زآن زلف بہ تاب اولی


چون پیر شدی حافظ، از میکده بیرون آی
رندی و ہوسناکی، درعہد شباب اولی



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔