میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 8 اپریل، 2015

مسجد و مکتب و میخانہ عقیم اند ہمہ


این گل و لالہ تو گوئی کہ مقیم اند ہمہ
راہ پیما صفت موج نسیم اند ہمہ
معنی تازہ کہ جوئیم و نیابیم کجاست
مسجد و مکتب و میخانہ عقیم اند ہمہ
حرفی از خویشتن آموز و در آن حرف بسوز
کہ درین خانقہ بی سوز کلیم اند ہمہ
از صفا کوشی این تکیہ نشینان کم گوی
موی ژولیدہ و ناشستہ گلیم اند ہمہ
چہ حرمہا کہ درون حرمی ساختہ اند
اہل توحید یک اندیش و دو نیم اند ہمہ
مشکل این نیست کہ بزم از سر ہنگامہ گذشت
مشکل این است کہ بی نقل و ندیم اند ہمہ

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔