میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 29 اپریل، 2015

پلیگیار ازم

Plagiarism

فیس بک ، بلاگنگ اور دیگر کمپیوٹری سوشل میڈیا ذرائع میں ، "پلیگیار ازم" کی کوئی وقعت نہیں ، یہاں کوئی کتابی مقابلہ نہیں ، اور نہ ہی خود کو لکھاری کے طور پر منوانا ہوتا ہے ۔
بس ایک تحریر ، مقالہ یا مضمون کسی کو پسند آیا کٹ پیسٹ کیا اور چھاپ دیا ۔ اگر یہ بات ہوتا تو " وکی پیڈیا اور وکی میڈیا " سب سے پہلے اِس کی زد میں آتا ہے ۔
لہذالکھاری حضرات دل پر نہ لیں اگر پہلے سے پڑھی ہوئی کوئی تحریر نظروں سے گذری ہے تو نہ پڑھیں ۔ تو بہتر ہے ۔
،
میں نے سب سے پہلے لکھنا یوں شروع کیا کہ پہلے سے لکھی ہوئی بچوں کی کہانیاں بچوں کے صفحے میں لکھ کر بھیجا کرتا تھا چھپ جاتی تو خوش ہوتا ۔
کچھ اپنی طرف سے کہانیاں بھی لکھیں لیکن انہیں اخبار والوں کی طرف سے زیادہ پذیرائی نہیں ملی ۔

بلوغت میں احساس ہوا ، کہ سب سے زیادہ پذیرائی اُن کہانیوں کو ملتی ہیں جو اپنے یا دوسروں کے واقعات کو مزاحیہ انداز میں بیان کرنا ، یا جھوٹے افسانے لکھنا ۔ اور یہ لکھاری کو لکھتے لکھتے آتا ہے ۔
'
اسی لئے بہت سے احباب سوشل میڈیاپر،  خبروں کا  بین الاقوامی ایجادات کا یا کوئی اور بلاگ نکال کر اپنے اندر چھپا ہوا ، وہ معصوم مصنف باہر نکالنے کی کوشش کرتے ہیں جنھیں ایڈیٹروں یا جاہل رسائل و جرائد کے مالکان نے نکلنے نہیں دیا ۔
میں ایسی تمام کوششوں کے خلاف ہوں یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنے بلاگ کے آخر میں یہ لکھا ہے
 :
" ، اک نظرِ کرم اِدھر بھی مہربان، خیال رہے کسی لفظ یا جملہ حقوق محفوظ نہیں !"

جرمنی کا ایٹم بم ، جو امریکہ نے چوری کیا "پلیگیار ازم"ہو سکتا ہے ۔ چین کی تمام ایجادات کی فوٹو کاپی بھی اگر آپ "پلیگیار ازم" میں ڈال دیں ، تو آپ یہودی نظام معاشیات کو سپورٹ کریں گے ۔ جہاں صرف " ونڈوز " کی حکومت ہوگی ۔

لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ "ونڈوز" نے اپنی تخلیق کو دنیا بھر میں مشہور کروانے کے لئے وہی طریقہ استعمال کیا جو ، عطا اللہ خان عیسیٰ نیازی ، مشہور ہونے کے بعد خیلوی ، نے مفت ٹرک میں ٹرک والوں کو ٹرک کے شور میں موسیقی سے لطف اندوز کروانے کے لئے اپنی آواز میں مفت کیسٹ بانٹے اور پشاور سے کراچی تک جانے والے ٹرکوں نئ ایک ہفتے میں اسے ملک کے زیادہ سننے والے ، گلوکار کی صف میں لا کھڑا کیا ، اُس کے سریلے پن کے فقدان پر مت جائیے۔ دکھی دل کی پکار پر دھیان دیں جو پورے پاکستان ، بلکہ گلوب کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ہیں ۔
یہ باکل ایسے ہی ہوا جیسے ہمارے پڑھنے والوں کے تعداد میں "ای میل اور گروپ کے ٹرکوں" نے ہمارے بلاگ " اُفق کے پار " کو گلوب میں پھیلا دیا ۔ اور جھنڈے جمع کرنے والی ایک فرم نے مفت میں ہمیں لوگوں سے زیادہ خود جھنڈے دیکھ کر خوش ہونے والوں شامل روانے کے لئے ۔ "ایچ ٹی ایم ایل کوڈ " دے دیا

یوں " ونڈوز" نے خود اپنی کروڑھا کاپیاں بنوا کر " پائریٹڈ " کا نام دے کر غریب غربا کے ملکوں میں پھیلا دیا اور اب کہتے ہیں خریدو ۔ خود سوچیں کیا چالیس روپے میں بکنے والی ونڈو کی ڈی وی ڈی ، "پلیگیار ازم" نہیں ؟ 
جو آپ اور میں استعمال کر ہے ہیں !

وکی پیڈیا نے بتایا کہ لیڈی ڈیانا کا ڈی این اے ، جمائما  کے ڈی این اے کا "پلیگیار ازم" ہے ۔ اور سنا ہے کہ امیتابھ بچن ، نہرو کے ڈی این اے کا "پلیگیار ازم" ہے ۔ اوربرطانیہ ،  یورپ و امریکہ تو اس قسم کے "پلیگیار ازم" سے بھرا ہوا ہے ۔


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔