میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 16 مئی، 2015

سب سے مشکل مضمون !

چم چم کے سالانہ امتحان ہونے والے ہیں ، وہ امتحان کے سب سے مشکل پپر کی تیاری کے لئے نانو کے پاس اپنی کتابوں اور کاپیوں کے ساتھ ، کل سکول سے سیدھے 35 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے نانو کے گھر ویک اینڈ آئی ۔ وہ آتے ہی ھک گئی ھی لہذا کھانا کھا کر سو گئی ،
اُٹھنے کے بعد ، اُس نے اپنے کارٹون  قربانی دی ، ڈرامہ سی آئی ڈی کی قربانی دی اور آج صبح وہ مکمل " فیڈ اَپ " ہوگئی ۔
کیوں کہ جب نانو نے کہا ، 
" آغا جی ! عالی نے اپنا سبق خود یاد کیا ہے "
میں نے پورا منہ ھو کر حیرانی سے کہا ،
" نامکن ۔ یہ ہو نہیں سکتا !"
" منہ بند کر کے حیران ہوں ، مکھی چلی جائے گی " نانو نے جھڑکتے ہوئے کہا اور چم چم کھلکھلا کر ہنسنے لگی ۔
ہم نے یک دم منہ بند کیا اور بند منہ سے  بولے
، 
" میں مان ہی نہیں سکتا "
نانو نے چم چم کی طرف دیکھا اور میری طرف ، اشارہ کرتے ہو اپنی کنپٹی پر انگلی گھمائی ، تو چم چم نے اپنی کتاب کھولی اور مجھے سبق سنانا شروع کیا ۔ اور میرا منہ حیرت سے کھلنے لگا ۔ جب وہ اپنی آخری حد کو پہنچا تو نانو چلائی ۔
"منہ بند کریں ورنہ سارے دانت گر جائیں گے"
ہم نے فوراً منہ بند کر لیا - لیکن اس سے پہلے نقلی دانت اپنی گود میں گرا چکے تھے ۔ اُٹھا کر واپس منہ میں رکھا ۔
چم چم نے ، الف سے خ تک ، ہر لفظ سے بنے والی پانچ پانچ چیزوں کے نام بتائے ، جب پچاس نام بتا چکی تو بولی ،
" آوا ! میں اُدرُو سے فیڈ اَپ ہوگئی ہوں ! "
اُسے " فیڈ اِن " کرنے ے لئے نانو نے اُس کی پسندیدہ کھانے کی چیز لینے کا پروگرام بنایا-
 تو ہم ، گرین ویلی کی طرف نکلے ، نانو نے اُس کی پسندیدہ ، چیزیں لیں ۔ اُس گھومنے کا پروگرام بنا اِس شرط پر بنا کہ جب تک وہ یہ چیزیں کار میں نہیں کھا لیتی، گھر نہیں جائیں گے ۔
چنانچہ اُسے بحریہ کا سڑک کے کنارے "زُو" دکھایا ، ریسنگ ٹریک پر گاڑی دوڑائی ، مجسمہ آزادی دکھایا ، ایفل ٹاور دکھایا ا اور " د سے بڑی ے " تک یاد کرنے کا وعدہ لیا کیوں کہ ، سوموار کو " ٹیسٹ" اور 25 مئی کو فائینل ٹیسٹ ہے ۔

بیوی کہنے لگی ،
" اپنے چار بچوں کو پڑھایا ، اے پی ایس کے بچوں کو 10 سال پڑھایا ۔ لیکن مشکل نہیں لگا ، اگر عالی کا اردو میں اے گریڈ نہیں آیا ، تومیری محنت اکارت گئی"
ہوا یوں کہ پچھے ٹیسٹ میں جو دو مہینے قبل ہوا تھا ، چم چم کے سارے مضامین میں "اے گریڈ" آیا سوائے "اردو" کے ۔

اور اب اردو میں
"اے گریڈ" حاصل کرنے کی خاطر ، اُس سے سبق سننے کے لئے ، شدید حیرانی کا مظاہرہ کرتے کرتے میرے بھی جبڑے لٹکنے لگے ہیں اور ایک ویک اینڈ اور آنا ہے -
پھر چم چم کو "اُدرُو" سے نجات مل جائے گی ، کیوں کہ اُس نے سنا ہے کہ دبئی میں
"اُدرُو" نہیں ہوتی ، لہذا وہ ، " سمر ھالی ڈے" میں، ثانی ماموں کے ہاں جاکررہے گی اور لڈو کے ساتھ سکول جایا کرے گی -
" تو پھر ہمارا کیا ہوگا ؟ " نانو نے پوچھا
"میں آپ سے یوسف کی طرح روزانہ سکائیپ پر بات کروں گی " چم چم نے مسئلے کا حل بتاتے ہوئے کہا ۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔