میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 20 مئی، 2015

وادئ ہنزہ ، خوبانیاں اور خوبانی کی طرح گال والے لوگ بچے

1982 مارچ کی بات ہے ، کہ ہمیں ایک مہم کے ساتھ شمالی علاقوں میں جانا پڑا وہاں ہر طرف پھلوں کے درختوں ے ہمیں بہت مرعوب کیا ۔ اِس دوران یہ بھی دیکھا کہ وہاں خوبانیاں سکھا کر رکھنے کا رواج ہے اور مہمانوں کی تواضع کے ساتھ لئے خوبانی کی مختلف ڈش بنائی جاتی ہیں ، جس کی وجہ سے اُن لوگوں میں مٹھاس کی بہتات ہے اور خوبانی کے بیجوں کا تیل اُن کی خوراک اُن کے جسم کی چکنائی میں اضافہ کر کے خشک اور سرد موسم کا مقابلہ کرنے کی ہمت دیتی ہے سردیاں شروع ہوتے ہی ، بچوں کے منہ دھلنا بند ہو جاتے ہیں اور بہار کے میلے میں ، بچے کالے گلاب سے سرخ گلاب میں تبدیل ہوجاتے ہیں-
وادئ ہنزہ، اسلام آباد کے شمال میں ہمالیہ پہاڑوں سلسلے کے دو پہاڑوں آغورستان (شمال مشرق) اور پامیر ( شمال مغرب کے درمیان 7،900 سکوائر کلومیٹر وادی کی صورت میں پھیلی ہوئی ہے اور سطح سمندر سے 8،200 فٹ بلند ہے گویا مری سے یہ مزید 600 فٹ بلند ہے ۔ ھنزہ وادی کا راولپنڈی سے فاصلہ 568 کلومیڑ ہے جو تقریباً دس سے 12 گھنٹوں میں طے ہے۔

گلگت سے یہی فاصلہ 2 گھنٹوں کا ہے اور فاصلہ صرف پہاڑی 95 کلو میٹر ، وہ دوست جنہیں پہاڑوں میں سفر کرنے کا شوق یا تجربہ ہے انہیں معلوم ہے کہ موٹر وے یا سپر ہائی وے پر 95 کلومیٹر جانا اور پہاڑی علاقوں میں 95 کلو میٹر جانا جہاں شروع سے آخر تک صرف پتھروں سے بنی ہوئی سڑک ہو وہاں 95کلو میٹر 6 گنٹوں بلکہ 12 گھنٹوں میں بھی تبدیل ہوسکتے ہیں 1982 میں ہمارے ساتھ یہی ہوا تھا ۔

یہ یاد رہے ، کہ اب تو ایک اور خوبصورت جھیل اللہ تعالیٰ نے عطا آباد اور گلمت کے درمیان دریائے نگر - ہنزہ وادی میں بنادی ہے ۔ تاکہ پانیوں کا "خازن" پاکستان کی مدد کر سکے ۔

راولپنڈی سے گلگت، بذریعہ جہاز جاکر آپ جیپ سے ہنزہ تک جاتے ہیں ، 1994 میں ڈین سم ، سکردو ، گگت اور گلگت سے ہمارا بذریعہ ہیلی کاپٹر ھنزہ جانے کا پروگرام تھا لیکن موسم کی خرابی کی وجہ سے ، گلگت سے راولپنڈی آگئے ۔
لہذا 1982 والے سفر کی روداد ، یاداشت کے سہارے آپ کو بتاؤں گا ۔

میں اِس مہم کے ساتھ بطور کپتان لائژن آفیسر تھا ، مارچ وسط میں ہم گلگت پہنچے ۔ ہماری ٹیم ،تین آسٹریلوی کوہ پیما پر مشتمل تھی ۔ جنہوں نے راکا پوشی کو سر کرنا تھا ۔ جس کا راستہ جگلوٹ سے جاتا ہے ۔ 
یہ 30 دن کا ٹور تھا ۔ گلگت پہنچ کر اُنہوں نے ہنزہ دیکھنے کی فرمائش کی جس کی بالا حکام سے اجازت لی گئی ۔ اجازت کے بعد ہم چاروں ایک جیپ میں وادئ ہنزہ کے مقام بلتت (کریم آباد) روانہ ہوئے ۔ وِلّی جیپ ( پہلی جنگ عظیم ) ، ٹیوٹا جیپ اور دیگر جیپوں میں سے 2 ٹیوٹا جیپ کا انتخاب کیا جو ٹیم کے آٹوموبائل کے ماہر رُکن کیپٹن میتھیو نے منتخب کیں گو کہ ہم بھی فوج سے میکینیکل ٹرانسپورٹ کورس کے فارغ التحصیل تھے لیکن انتخابِ جیپ میں ہمارا کوئی ھاتھ نہ تھا ۔ دو ٹویوٹا جیپ فور وہیل ڈرائیو اوپن ٹاپ ساتھ دو فاضل وہیل اور دو جیری کین پیٹرول فی جیپ، بمع ہمارا سامان خوب کس کر جیپوں کے ساتھ باندھا گیا ، حرکتی اشیاء میں بس ہم پانچوں انسان تھے ، ڈرائیور نے ، گلگت سے وادی ہنزہ تک سفر کے سٹینڈنگ آپریٹنگ پر وسیجر(ایس او پی )  انگلش نما اردو میں بتائے ، جس کے چیدہ چیدہ نکات ، اونچائی پر چڑھتے ہوئے اگر جیپ رک جائے تو لکڑی کا گٹکا جو جیپ کے پیچھے لگا تھا وہ فوراً ایک صاحب پچھلے پہیے کے نیچے لگائے گا ، جودریا کی طرف والے پہیئے کے نیچے لگایاجائے گا ، یہ ڈیوٹی ہمیں دی گئے ۔ لہذا ہم جیپ میں ایسے بیٹھے کہ سریع الحرکت طاقت کا مظاہرہ کیا جاسکے ۔ کیوں کہ جیپ کے پیچھے چلنے یا دریا کی گہرائیوں کی طرف رُخ کرنے پر  " رُومن اینڈ کنٹری مین " نے چھلانگ لگا کر اپنی اپنی جان بچانی ہے ۔
تمام دعائیں مانگ کر جیپ کا سفر شروع ہوا ، سینئیر کوہ پیما جو ہم سے ایک سال چھوٹا تھا ، ڈاکٹر( پی ایچ ڈی ) گلبرٹ  ڈرائیور کے ساتھ بیٹھا تھا۔ میں اور آندرے پیچھے اور کیپٹن میتھیو دوسری جیپ میں کوہ پیمائی کے تمام سامان کے ساتھ بیٹھا ۔ دریائے گلگت کے جھولتے پل سے پار اترنے کے بعد گلبرٹ نے اپنی کاپی نکالی اور بَلتی زبان میں جو کافی حد تک ڈرایئور کو قابلِ فہم تھی معلومات حاصل کرنا شروع کر دیں ۔ ڈرائیور تو پہلے خوش ہوا ۔ لیکن بعد میں پریشان اور مجھے اردو میں کہا کہ صاحب تو کافی پرانی زبان بولتا ہے ، جو ختم ہوگئ ہے ۔  آندرے (بزنس مین) نے "ادرو" میں کہا ،
" اچھا ہمیں تو بٹایا ٹھا کہ یہ بُلٹی لینگوئج کا ایکسپرٹ ہے "

مارچ کا مہینہ تھا درختوں پر پھولوں ے نیچے پھل انگڑائیاں لے کر بیدار ہورہے تھے ۔ پانچ سے دس میل فی گھنٹہ کے حساب سے سفر کرنے کے بعد ایک گھنٹہ کی بریک آدھے گھنٹہ کے لئے کی -
یہاں کوئی دس گھروں پر مشتمل گاؤں تھا جس کے پانچ یا چھ ٹینس کورٹ کے برابر کھیت تھے ، پہاڑی بکرے ، سینگوں والے مینڈھے اور کھیلتے ہوئے بچے بشمول تین بوڑھے نظر آئے ، بچے کھیت کی منڈیر جو دس فٹ اونچی تھی وہاں آکر ہمیں دیکھ رہے تھے اور آپ میں کوئی شُغلی کمنٹس دے کر ہنستے ۔
آندرے نے پوچھا ، " یہ کیوں ہنسٹا ہے ؟"
" یہ اُس طرح ہنستا ہے جیسے ہم بندروں کو دیکھ کر ہنستا ہے " میں نے جواب دیا ۔
میتھیو زور سے ہنسا اور گلبرٹ جھینپ گیا ۔
اتنے میں بَلتی میں ایک بوڑھی عورت چلائی ۔ بچے واپس دوڑ گئے ۔ میں نے گلبرٹ سے پوچھا ،
" عورت نے کیا کہا ؟"
اچھا لیڈی ہے ، وہ بولٹا ہے گیسٹ کو مت ٹنگ کرو " گلبرٹ ادرو میں بولا ۔
اگر میں سفر کی روداد لکھوں تو ، یہ مضمون چالیس قسطوں تک کھینچ جاؤں ، بہرحال صبح 7 بجے روانہ ہونے کے بعد ہم علی آباد سے گذرتے ہوئے ، شام چار بجے ، کریم آباد(بلتت ) پہنچے ۔ سورج غروب ہو چکا تھا لیکن روشنی تھی ۔ ڈرائیور نے ہمیں ایک ہوٹل کے پاس کھڑا کر دیا ۔ لکڑیوں سے بنا یہ ہوٹل چھ کمروں پر مشتمل تھا ۔ چھٹا کمرہ مخدوش تھا ۔ ابھی چونکہ سیاحوں کی آمد شروع نہیں ہوئی تھی لہذا ہمیں کمرے ایک رات کے لئے سستے مل گئے ۔
بلتت ۔ میر آف ہنزہ کا محل کہلاتا ہے ۔ جس سے بلتستان یعنی بلتی بولنے والوں کا استھان کہلایا ۔ گلگت سے بلتت آنے والا راستہ گلیشئیر سے گذرتا ہوا بدخشاں ، تاجکستان اور کرغستان تک جاتا ہے ۔ سکندر اعظم کئ فوجی اور کہا جاتا ہے کہ آریا و یونانی اسی راستے سے گلگت و سکردو پہنچے اور نیلی آنکھوں ، شفتالو کی طرح رنگ انہیں کی دین ہے ، ہاں اِن کے ساتھ عورتیں نہیں تھیں ۔ یونانی نقش کے لوگ انہی کی ذریت ہیں گول ناکوں والے بلتی، ھوانگ ھو وادی سے آنے والے چینوں کے خاندان " ھن " بھی التت میں آباد ہیں، جن کی وجہ سے وادی کا نام
"ھن زہ" کہلایا اور بدخشاں سے آنے والی کالی آنکھوں والے ترکیوں کی نسل بھی ہے  ۔ اِس کے علاوہ برصغیر جانے اور اپنی آل و اولاد واپس لانے والوں کی نسلیں بھی گگت بلتستان کے علاقوں میں آباد ہیں ۔

التت "ھن زہ" بادشاہت کا پہلا پڑاؤ ہے ۔ جہاں پہلا قلعہ بنا ۔ قلعہ کو دیکھ کر اندازہ گایا جاتا ہے کہ خوفزدہ امراء اپنی حفاظت کی فکر کیسے کیا کرتے تھے ۔ چنانچہ میر عیاشو 2 کی بیگم نے یہ قلعہ 1548 میں بنوایا تھا ۔
یہی صورت حال بلتت قلعے کی تھی جو ایک اونچے پہاڑ پر حملہ آوروں ے ڈر سے بنایا ہواتھا ۔ دونوں قلعوں کے درمیان ہوائی فاصلہ کوئی میل کے لگ بھگ ہے ۔
میروں کی حکومت 1974 میں ختم کر دی گئی اور 1982 میں ہم یہاں پہنچے

ھنزہ کی خوبانیوں کے خواص کی کہانی آپ نے تین بلاگروں سے سُن لی ۔
1- ثناء اللہ خان ۔( فیس بک)
2- بیاضِ افتخار
3- ہم اور ہماری دنیا - 


 لہذا یہ سادہ سی داستان ہے ۔ ایک کپتان کی جوانی میں ہنزہ کی وادیوں کی سیاحی کرنے کی ۔
گُلکن سے گذرتے ہوئے پاسو تک کیسے گئے ؟
واپسی کیسے ہوئی ؟
اور پھر سب سے اہم کام راکا پوشی پر جانے کے لئے ، ساتھ ملنے والا پندرہ لوگوں کا قافلہ لے کر راکا پوشی بیس کیمپ تک کیسے پہنچے ؟
الگ داستان ہے ۔
جو پھر کبھی !

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔